hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 4681

.

سنن البيهقي

4681
Sunan Al Bayhaqi
(۴۶۸۱) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ابْنُ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ خَالِدٍ یَعْنِی ابْنَ یَزِیدَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی ہِلاَلٍ عَنْ مَخْرَمَۃَ بْنِ سُلَیْمَانَ أَنَّ کُرَیْبًا أَخْبَرَہُ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ صَلاَۃِ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ بِاللَّیْلِ۔فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فِیہِ : ثُمَّ قَامَ وَقُمْتُ إِلَی جَنْبِہِ عَنْ یَسَارِہِ ، فَجَعَلَنِی عَنْ یَمِینِہِ ، ثُمَّ وَضَعَ یَدَیْہِ عَلَی رَأْسِی ، فَجَعَلَ یَمَسُّ أُذُنِی کَأَنَّہُ یُوقِظُنِی ، فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ خَفِیفَتَیْنِ۔قَلْتُ : قَرَأَ فِیہِمَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فِی کُلِّ رَکْعَۃٍ ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ صَلَّی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ، حَتَّی صَلَّی إِحْدَی عَشْرَۃَ رَکْعَۃً بِالْوِتْرِ ، ثُمَّ نَامَ حَتَّی اسْتَثْقَلَ وَرَأَیْتُہُ یَنْفُخُ ، فَأَتَاہُ بِلاَلٌ فَقَالَ : الصَّلاَۃُ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔فَقَامَ فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ ، وَصَلَّی لِلنَّاسِ وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔ قَالَتْ عَائِشَۃُ : لَیْسَ مِنْ نَبِیٍّ نَامَ عَیْنُہُ إِلاَّ اسْتَنْبَہَ قَلْبُہُ ، وَإِذَا نَامَ قَلْبُہُ اسْتَیْقَظَتْ عَیْنَاہُ۔ [صحیح۔ ابوداؤد ۱۳۶۴]
(٤٦٨١) کریب فرماتے ہیں : میں نے عبداللہ بن عباس (رض) سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رات کی نماز کے بارے میں سوال کیا، پھر انھوں نے لمبی حدیث ذکر کی۔ اس میں ہے کہ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور میں آپ کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اپنی دائیں طرف کرلیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے کانوں کو چھو رہے تھے گویا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے بیدار کر رہے ہوں، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو خفیف رکعتیں پڑھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر رکعت میں سورة فاتحہ پڑھی، پھر سلام پھیرا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعتیں ادا کیں، پھر سلام پھیرا یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وتر سمیت گیارہ رکعات ادا کیں، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سو گئے۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خراٹے لے رہے تھے۔ بلال (رض) نے آ کر عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! نماز ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور دو رکعت نماز پڑھی ، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا۔
(ب) عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ کوئی نبی ایسا نہیں اس کی آنکھیں سو جائیں مگر اس کا دل جاگتا ہے اور اگر دل سو جائے تو آنکھیں جاگتی ہیں۔