(۴۷۴۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ وَابْنُ أَبِی عَدِیٍّ عَنْ سَعِیدٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی {کَانُوا قَلِیلاً مِنَ اللَّیْلِ مَا یَہْجَعُونَ} [الذاریات : ۱۷] قَالَ : کَانُوا یُصَلُّونَ فِیمَا بَیْنَہُمَا بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ زَادَ فِی حَدِیثِ یَحْیَی وَکَذَلِکَ { تَتَجَافَی جُنُوبُہُمْ } [السجدۃ: ۱۶]۔ [صحیح۔ ابوداؤد ۱۳۲۲]
(٤٧٤٨) قتادہ حضرت انس (رض) سے اس آیت کے بارے میں نقل فرماتے ہیں { کَانُوا قَلِیلاً مِنَ اللَّیْلِ مَا یَہْجَعُونَ } [الذاریات : ١٧] ” وہ رات کو بہت کم سوئے ہیں “ کہ وہ مغرب اور عشا کے درمیان نماز پڑھ لیتے تھے۔ یحییٰ کی حدیث میں کچھ زیادتی ہے۔ { تَتَجَافَی جُنُوبُہُمْ } [السجدۃ : ١٦] ان کے پہلو بستروں سے جدا رہتے ہیں۔