(۴۷۴۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ { تَتَجَافَی جُنُوبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ} [السجدۃ: ۱۶] إِلَی {یُنْفِقُونَ} قَالَ : کَانُوا یَتَیَقَّظُونَ مَا بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ یُصَلُّونَ۔ قَالَ : وَکَانَ الْحَسَنُ یَقُولُ : قِیَامُ اللَّیْلِ۔ [صحیح]
(٤٧٤٩) قتادہ انس بن مالک (رض) سے اس آیت کے بارے میں نقل فرماتے ہیں { تَتَجَافَی جُنُوبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ } [السجدہ ١٦] الی { یُنْفِقُونَ } ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ بیداری کی حالت میں مغرب اور عشا کے درمیان نماز پڑھ لیتے تھے۔ اور ” حسن “ کہتے ہیں : یہ قیام اللیل ہوتا تھا۔