(۴۷۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِیًّا یَعْنِی ابْنَ الْمَدِینِیِّ یَقُولُ قَالَ سُفْیَانُ قَالَ ابْنُ شُبْرُمَۃَ : نَظَرْتُ کَمْ یَکْفِی الرَّجُلَ مِنَ الْقُرْآنِ فَلَمْ أَجِدْ سُورَۃً أَقَلَّ مِنْ ثَلاَثِ آیَاتٍ ، فَقُلْتُ : لاَ یَنْبَغِی أَنْ یُقْرَأَ أَقَلُّ مِنْ ثَلاَثِ آیَاتٍ ۔
قَالَ سُفْیَانُ فَقُلْتُ أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ -ﷺ- : ((مَنْ قَرَأَ بِالآیَتَیْنِ مِنْ سُورَۃِ الْبَقَرَۃِ فِی لَیْلَۃٍ کَفَتَاہُ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ۔ [صحیح۔ انظر ماقبلہ]
(٤٧٦١) سفیان کہتے ہیں کہ ابن شبرمہ فرماتے ہیں : میرے خیال میں قرآن کی کتنی قرأت آدمی کو کفایت کر جائے گی ، کیونکہ میں تو کوئی سورة تین آیات سے کم نہیں پاتا، میں نے کہا : تو پھر تین آیات سے کم پڑھنا مناسب نہیں ہے۔
(ب) عبدالرحمن بن یزید ابو مسعود سے نقل فرماتے ہیں اور وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مرفوعاً نقل فرماتے ہیں : جس نے رات کو سورة بقرہ کی دو آیات تلاوت کرلیں تو یہ اس کو کفایت کر جائیں گی۔