(۴۷۸۴) وَمِنْہُمْ سَعْدُ بْنُ أَبِی وَقَّاصٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الْخَطِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَحْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ کَوْثَرٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنِی إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَمِّہِ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ قِیلَ لِسَعْدٍ : إِنَّکَ تُوْتِرُ بِرَکْعَۃٍ ۔قَالَ : نَعَمْ ، سَبْعٌ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ خَمْسٍ ، وَخَمْسٌ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ ثَلاَثٍ ، وَثُلاَثٌ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ وَاحِدَۃٍ ، وَلَکِنْ أُخَفِّفُ عَنْ نَفْسِی۔ [صحیح۔ عبدالرزاق ۴۶۴۷]
(٤٧٨٤) مصعب بن سعد کہتے ہیں کہ سعد سے کہا گیا : آپ ایک رکعت وتر پڑھتے ہیں ؟ کہنے لگے : ہاں۔ سات وتر مجھے پانچ سے زیادہ پسند ہیں اور پانچ وتر مجھے تین سے زیادہ پسند ہیں اور تین وتر مجھے ایک سے زیادہ پسند ہیں، لیکن میں اپنے اوپر تخفیف کرتا ہوں۔