(۴۷۸۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ بِلاَلٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا فُلَیْحٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ قُلْتُ : لأَغْلِبَنَّ عَلَی الْمَقَامِ اللَّیْلَۃَ فَسَبَقْتُ إِلَیْہِ ، فَبَیْنَا أَنَا قَائِمٌ أُصَلِّی إِذَا رَجُلٌ وَضَعَ یَدَہُ عَلَی ظَہْرِی قَالَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ یَوْمَئِذٍ أَمِیرٌ ، فَتَنَحَّیْتُ عَنْہُ ، فَقَامَ فَافْتَتَحَ الْقُرْآنَ حَتَّی فَرَغَ مِنْہُ ، ثُمَّ رَکَعَ وَجَلَسَ وَتَشَہَّدَ ، وَسَلَّمَ فِی رَکْعَۃٍ وَاحِدَۃٍ لَمْ یَزِدْ عَلَیْہَا ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ إِنَّمَا صَلَّیْتَ رَکْعَۃً ۔قَالَ: ہِیَ وِتْرِی۔ [صحیح لغیرہ]
(٤٧٨٣) عبدالرحمن بن عثمان کہتے ہیں کہ میں نے کہا : آج رات میں مقام ابراہیم پر ضرور کھڑا ہوں گا تو میں سب سے پہلے پہنچ گیا، میں نماز پڑھ رہا تھا تو ایک شخص نے اپنا ہاتھ میری کمر پر رکھا، میں نے دیکھا وہ عثمان بن عفان تھے۔ ان دنوں وہ امیرالمومنین بھی تھے۔ میں پیچھے ہٹ گیا۔ وہ کھڑے ہوئے، انھوں نے مکمل قرآن پڑھ دیا، پھر رکوع کیا اور بیٹھ گئے، پھر تشہد پڑھ کر ایک رکعت میں سلام پھیر دیا، اس پر زیادہ نہیں کیا۔ جب فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا : اے امیرالمومنین ! ایک رکعت ؟ تو وہ کہنے لگے : یہ میرا وتر ہے۔