(۴۸۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو سِنَانٍ : سَعِیدُ بْنُ سِنَانٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ : أَنَّہُ سَأَلَ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ عَنِ الْوِتْرِ ، فَقَالَ : کَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ یُوتِرُ أَوَّلَ اللَّیْلِ ، فَإِذَا قَامَ نَقَضَ وِتْرَہُ ، ثُمَّ صَلَّی ، ثُمَّ أَوْتَرَ آخِرَ صَلاَتِہِ أَوَاخِرَ اللَّیْلِ ، وَکَانَ عُمَرُ یُوتِرُ آخِرَ اللَّیْلِ ، وَکَانَ خَیْرٌ مِنِّی وَمِنْہُمَا أَبُو بَکْرٍ یُوتِرُ أَوَّلَ اللَّیْلِ وَیَشْفَعُ آخِرَہُ۔
یُرِیدُ بِذَلِکَ یُصَلِّی مَثْنَی مَثْنَی وَلاَ یَنْقُضُ وِتْرَہُ۔ [حسن۔ ابن ابی شیبہ ۶۷۰۶]
(٤٨٤٥) عمرو بن مرۃ نے سعید بن مسیب سے وتر کے بارے میں سوال کیا تو وہ کہنے لگے : عبداللہ بن عمر (رض) رات کے پہلے حصہ میں وتر پڑھتے، جب رات کو بیدار ہوتے تو اپنے وتر کو توڑ دیتے، پھر نماز پڑھتے، پھر وتر کی نماز رات کے آخری حصہ میں ہوتی اور حضرت عمر (رض) رات کے آخری حصہ میں وتر پڑھتے اور وہ مجھ سے بہتر تھے، ابوبکر (رض) بھی رات کے ابتدائی حصہ میں نماز پڑھتے اور آخری حصہ میں اس کو جوڑ لیتے تھے۔ اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ وہ رات کی نماز دو دو رکعات پڑھتے اور اپنے وتر کو نہیں توڑتے تھے۔