(۴۸۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْکَرِیمِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ہُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی جَمْرَۃَ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ نَقْضِ الْوِتْرِ ، قَالَ : إِذَا أَوْتَرْتَ أَوَّلَ اللَّیْلِ فَلاَ تُوتِرْ آخِرَہُ ، وَإِذَا أَوْتَرْتَ آخِرَہُ فَلاَ تُوتِرْ أَوَّلَہُ۔ وَسَأَلْتُ عَائِذَ بْنَ عَمْرٍو وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- عَنْ نَقْضِ الْوِتْرِ فَقَالَ : إِذَا أَوْتَرْتَ أَوَّلَہُ فَلاَ تُوتِرْ آخِرَہُ ، وَإِذَا أَوْتَرْتَ آخِرَہُ فَلاَ تُوتِرْ أَوَّلَہُ۔أَخْرَجَ الْبُخَارِیُّ حَدِیثَ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو فِی الصَّحِیحِ۔قَالَ : وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَۃِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ [صحیح۔ بخاری ۳۹۴۲]
(٤٨٤٦) ابی جمرہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) سے نقض وتر کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا : جب آپ رات کے ابتدائی حصہ میں وتر پڑھ لیں تو آخری حصہ میں وتر نہ پڑھیں اور جب رات کے آخر میں وتر پڑھ لو تو ابتدا میں وتر نہ پڑھو۔ میں نے عائد بن عمرو سے وتر کو توڑنے کے متعلق سوال کیا جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے تھے وہ فرمانے لگے : جب آپ رات کے شروع میں وتر پڑھ لیں تو رات کے آخری حصہ میں نہ پڑھیں۔ جب رات کے آخری حصہ میں وتر پڑھ لیں تو ابتدائی حصہ میں نہ پڑھیں۔