(۴۹۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عُلَیَّۃَ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنِ الْقَاسِمِ الشَّیْبَانِیِّ أَنَّ زَیْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَأَی قَوْمًا یُصَلُّونَ فِی مَسْجِدِ قُبَائٍ مِنَ الضُّحَی فَقَالَ : أَمَا لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ الصَّلاَۃَ فِی غَیْرِ ہَذِہِ السَّاعَۃِ أَفْضَلُ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((إِنَّ صَلاَۃَ الأَوَّابِینَ حِینَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ))۔وَقَالَ مَرَّۃً : وَأُنَاسًا یُصَلُّونَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ وَغَیْرِہِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ۔ [حسن۔ مسلم ۷۴۸]
(٤٩٠٨) قاسم شیبانی فرماتے ہیں کہ زید بن ارقم نے ایک قوم کو مسجد قبا میں چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا حالانکہ انھیں علم ہے کہ اس وقت کے علاوہ نماز پڑھنا افضل ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صلوۃ الاوابین کا وقت جب اونٹنی کے بچے کے پاؤں جلنا شروع ہوجائیں اور ایک مرتبہ فرمایا : جب لوگ نماز پڑھ رہے تھے۔