(۴۹۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ وَاللَّفْظُ لَہُ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنِی أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا أَبُوخَیْثَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ یَعْنِی ابْنَ عُلَیَّۃَ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ قَالَ : أَتَیْنَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَنَحْنُ شَبَبَۃٌ مُتَقَارِبُونَ ، فَأَقَمْنَا عِنْدَہُ عِشْرِینَ لَیْلَۃً ، قَالَ : وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- رَحِیمًا رَفِیقًا، فَظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَقْنَا أَہْلَنَا، فَسَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَکْنَا مِنْ أَہْلِنَا، فَأَخْبَرْنَاہُ فَقَالَ: ((ارْجِعُوا إِلَی أَہْلِیکُمْ فَأَقِیمُوا عِنْدَہُمْ وَعَلِّمُوہُمْ وَمُرُوہُمْ فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَۃُ فَلْیُؤَذِّنْ لَکُمْ أَحَدُکُمْ وَلْیَؤُمَّکُمْ أَکْبَرُکُمْ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی خَیْثَمَۃَ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ۔[صحیح۔ بخاری ۶۰۲]
(٤٩٢٨) مالک بن حویرث (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے، ہم ایک جیسے نوجوان تھے۔ ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیس راتیں ٹھہرے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رحم فرمانے والے اور نرم مزاج تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گمان کیا کہ ہم اپنے گھر والوں سے بھاگے ہوئے ہیں۔ ہم نے سوال کیا جو ہم نے اپنے گھر والے چھوڑے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اپنے گھر والوں کی طرف واپس چلے جاؤ۔ ان کے پاس ٹھہرو اور ان کو تعلیم دو اور ان کو حکم دو جب اذان کا وقت ہوجائے تو تم میں سے ایک شخص اذان دے اور تمہارا بڑا تمہاری امامت کروائے۔