(۴۹۹) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَائٍ وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ وَوَکِیعٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ قَالَ قَالُوا لِسَلْمَانَ : قَدْ عَلَّمَکُمْ نَبِیُّکُمْ کُلَّ شَیْئٍ حَتَّی الْخَرَائَۃَ۔ فَقَالَ : أَجَلْ ، قَدْ نَہَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃَ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ ، وَنَہَانَا أَنْ یَسْتَنْجِیَ أَحَدُنَا بِأَقَلَّ مِنْ ثَلاَثَۃِ أَحْجَارٍ ، وَنَہَانَا أَنْ نَسْتَنْجِیَ بِرَجِیعٍ أَوْ بِعَظْمٍ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔
(ت) وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنِ الأَعْمَشِ وَمَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ فَذَکَرَہُ وَفِیہِ وَقَالَ : لاَ یَسْتَنْجِی أَحَدُکُمْ بِدُونِ ثَلاَثَۃِ أَحْجَارٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۲۶۲]
(٤٩٩) (الف) عبد الرحمن بن یزید نے سلمان (رض) سے کہا ؎ تمہارا نبی تم کو ہر چیز سکھلاتا ہے یہاں تک قضائے حاجت کا طریقہ بھی ؟ انھوں نے فرمایا : جی ہاں ! یقیناً نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم کو منع کیا کہ ہم قضائے حاجت یا پیشاب کرتے وقت اپنا منہ قبلے کی طرف کریں اور تین ڈھیلوں سے کم استعمال کرنے سے بھی منع کیا اور گوبر اور ہڈی سے استنجا کرنے سے بھی منع فرمایا۔
(ب) ایک روایت میں ہے کہ تم میں سے کوئی تین ڈھیلوں سے کم سے استنجا نہ کرے۔