(۵۰۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو زَیْدٍ : سَعِیدُ بْنُ الرَّبِیعِ وَحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْہَالِ قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ قَالَ أَخْبَرَنِی
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ أَبِی بَصِیرٍ یُحَدِّثُ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ : صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- صَلاَۃَ الصُّبْحِ فَقَالَ : ((أَشَاہِدٌ فُلاَنٌ))۔قَالُوا لاَ۔قَالَ : ((أَشَاہِدٌ فُلاَنٌ))۔
قَالُوا لاَ۔قَالَ : ((إِنَّ ہَاتَیْنِ الصَّلاَتَیْنِ یَعْنِی الْعِشَائَ وَالصُّبْحَ مِنْ أَثْقَلِ الصَّلاَۃِ عَلَی الْمُنَافِقِینَ ، وَلَوْ یَعْلَمُونَ مَا فِیہِمَا لأَتَوْہُمَا وَلَوْ حَبْوًا ، وَالصَّفُّ الأَوَّلُ عَلَی مِثْلِ صَفِّ الْمَلاَئِکَۃِ ، وَلَوْ تَعْلَمُونَ فَضِیلَتَہُ لاَبْتَدَرْتُمُوہُ ، وَصَلاَۃُ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلِ أَزْکَی مِنْ صَلاَتِہِ وَحْدَہُ ، وَصَلاَتُہُ مَعَ الرَّجُلَیْنِ أَزْکَی مِنْ صَلاَتِہِ مَعَ الرَّجُلِ ، وَمَا کَثُرَ فَہُوَ أَحَبُّ إِلَی اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ))۔
ہَکَذَا رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ شُعْبَۃَ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ ، وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ ، وَإِسْرَائِیلُ بْنُ یُونُسَ ، وَجَمَاعَۃٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ، وَرَوَاہُ زُہَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَصِیرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أُبَیٍّ۔
[ضعیف۔ تقدم برقم ۴۹۶۴]
(٥٠٠٠) ابی بن کعب (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی نماز پڑھائی، پھر فرمایا : کیا فلاں ہے ؟ لوگوں نے کہا : نہیں۔ پھر پوچھا : کیا فلاں ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ دو نمازیں یعنی عشا اور صبح منافقین پر بہت بھاری ہیں۔ اگر وہ جان لیں کہ ان کے پڑھنے میں کیا ثواب ہے تو وہ ضرور آئیں اگرچہ ان کو گھٹنوں کے بل گھسیٹ کر آنا پڑے۔ پہلی صف فرشتوں کی صف کی طرح ہے۔ اگر تم ان کی فضیلت کو جانتے تو تم ان کی طرف جلدی کرتے۔ ایک آدمی کا دوسرے کے ساتھ مل کر نماز پڑھنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے اکیلے آدمی کی نماز سے اور دو آدمیوں کے ساتھ مل کر نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے ایک آدمی کے ساتھ نماز پڑھنے سے اور جتنے زیادہ ہوں گے وہ اللہ کو زیادہ محبوب ہوں گے۔