(۵۰۶۱) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا أَبُو ہِلاَلٍ الرَّاسِبِیُّ وَسُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ وَغَیْرُہُ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ قَالَ : أَکَلْتُ الثُّومَ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَتَیْتُ الْمَسْجِدَ وَقَدْ سُبِقْتُ بِرَکْعَۃٍ فَدَخَلْتُ مَعَہُمْ فِی الصَّلاَۃِ۔فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- رِیحَہُ فَقَالَ : ((مَنْ أَکَلَ مِنْ ہَذِہِ الشَّجَرَۃِ الْخَبِیثَۃِ فَلاَ یَقْرَبَنَّ مُصَلاَّنَا حَتَّی یَذْہَبَ رِیحُہَا))۔فَأَتْمَمْتُ صَلاَتِی فَلَمَّا سَلَّمْتُ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَقْسَمْتُ عَلَیْکَ لَمَا أَعْطَیْتَنِی یَدَکَ فَنَاوَلَنِی یَدَہُ فأَدْخَلْتُہَا فِی کُمِّی حَتَّی انْتَہَیْتُ إِلَی صَدْرِی فَوَجَدَہُ مَعْصُوبًا۔فَقَالَ : ((إِنَّ لَکَ عُذْرًا أَوْ أَرَی لَکَ عُذْرًا)) [صحیح۔ احمد ۴/۲۵۲]
(٥٠٦١) مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں لہسن کھایا۔ میں مسجد میں آیا اور نماز کی ایک رکعت ہوچکی تھی۔ میں نماز میں شامل ہوگیا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی بو کو پایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو اس خبیث درخت سے کھائے وہ مسجد کے یا فرمایا : نماز کے قریب نہ آئے جب تک ان کی بو ختم نہ ہو۔ میں نے نماز پوری کی، جب میں نے سلام پھیرا تو میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے اپنا ہاتھ پکڑائیں گے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ پکڑا دیا تو میں نے اپنی قمیص کی آستین میں داخل کر کے اپنے سینے تک لے گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر پٹی بندھی ہوئی پائی تو فرمایا : تیرا عذر ہے۔