(۵۰۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ أَخْبَرَنَا الْجُرَیْرِیُّ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ : لَمْ نَعُدْ أَنْ فُتِحَتْ خَیْبَرُ وَقَعْنَا فِی تِلْکَ الْبَقْلَۃِ یَعْنِی الثُّومَ فَأَکَلْنَا مِنْہَا أَکْلاً شَدِیدًا وَنَاسٌ جِیَاعٌ ، ثُمَّ رُحْنَا إِلَی الْمَسْجِدِ۔فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الرِّیحَ فَقَالَ : ((مَنْ أَکَلَ مِنْ ہَذِہِ الشَّجَرَۃِ الْخَبِیثَۃِ شَیْئًا فَلاَ یَقْرَبْنَا فِی الْمَسْجِدِ))۔فَقَالَ النَّاسُ : حُرِّمَتْ حُرِّمَتْ فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : ((أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّہُ لَیْسَ بِی تَحْرِیمُ مَا أَحَلَّ اللَّہُ وَلَکِنَّہَا شَجَرَۃٌ أَکْرَہُ رِیحَہَا))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرٍو الناقَدِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ ابْنِ عُلَیَّۃَ۔ [صحیح۔ مسلم ۵۶۵]
(٥٠٦٠) ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں : جب خیبر فتح ہوا تو ہمیں سبزی ملی جس میں لہسن تھا تو ہم نے خوب کھایا اور بھوکے بھی تھے، پھر ہم مسجد کی طرف چلے، تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لہسن کی بو محسوس کی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو اس خبیث درخت سے کھائے وہ مسجد کے قریب نہ آئے تو لوگوں نے کہنا شروع کردیا کہ حرام کردیا گیا، حرام کردیا گیا۔ یہ بات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے لوگو ! جو اللہ نے حلال قرار دیا وہ حرام نہیں۔ لیکن میں اس کو بو کی ناپسند کرتا ہوں۔