(۵۰۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ مُنِیبٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شَیْبَانَ الرَّمْلِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ : سَقَطَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ شِقُّہُ الأَیْمَنُ۔فَدَخَلْنَا عَلَیْہِ نَعُودُہُ فَصَلَّی قَاعِدًا فَصَلَّیْنَا قُعُودًا ، فَلَمَّا قَضَی الصَّلاَۃَ قَالَ : ((إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِیُؤْتَمَّ بِہِ ۔فَإِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوا ، وَإِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوا ، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ ، وَإِذَا صَلَّی قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعِینَ))
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیٍّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَغَیْرِہِ عَنِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ۔
[صحیح۔ بخاری ۳۷۱]
(٥٠٦٩) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھوڑے سے گرپڑے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دائیں جانب زخمی ہوگئی۔ ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تیمار داری کے لیے آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیٹھ کر نماز پڑھی، ہم نے بھی بیٹھ کر نماز پڑھی۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پوری کی تو فرمایا : امام بنایا ہی اس لیے جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے۔ جب وہ اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ ” سمع اللہ لمن حمدہ “ کہے تو تم بھی ” ربنا ولک الحمد “ کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔