(۵۰۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُونُسَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ بْنُ قُدَامَۃَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ أَبِی عَائِشَۃَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقُلْتُ : أَلاَ تُحَدِّثِینِی عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَتْ : بَلَی فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ۔
قَدْ نَقَلْنَاہُ فِی کِتَابِ الطَّہَارَۃِ إِلَی أَنْ قَالَتْ : فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی أَبِی بَکْرٍ أَنْ یُصَلِّیَ بِالنَّاسِ۔فَأَتَاہُ الرَّسُولُ فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَأْمُرُکَ أَنْ تُصَلِّیَ بِالنَّاسِ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ وَکَانَ رَجُلاً رَقِیقًا : یَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ۔قَالَ عُمَرُ : أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِکَ ، فَفَعَلَ فَصَلَّی بِہِمْ أَبُو بَکْرٍ تِلْکَ الأَیَّامَ ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَجَدَ مِنْ نَفْسِہِ خِفَّۃً فَخَرَجَ بَیْنَ رَجُلَیْنِ أَحَدُہُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلاَۃِ الظُّہْرِ۔وَأَبُو بَکْرٍ یُصَلِّی بِالنَّاسِ۔فَلَمَّا رَآہُ أَبُو بَکْرٍ ذَہَبَ لِیَتَأَخَّرَ فأَوْمَأَ إِلَیْہِ النَّبِیُّ -ﷺ- أَنْ لاَ یَتَأَخَّرَ وَقَالَ لَہُمَا : ((أَجْلِسَانِی إِلَی جَنْبِہِ))۔فَأَجْلَسَاہُ إِلَی جَنْبِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَتْ : فَجَعَلَ أَبُو بَکْرٍ یُصَلِّی بِصَلاَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ قَائِمٌ وَالنَّاسُ یُصَلُّونَ بِصَلاَۃِ أَبِی بَکْرٍ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَاعِدٌ۔قَالَ عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ فَدَخَلْتُ عَلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ لَہُ : أَلاَ أَعْرِضُ عَلَیْکَ مَا حَدَّثَتْنِی عَائِشَۃُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ہَاتِ فَعَرَضْتُ عَلَیْہِ حَدِیثَہَا فَمَا أَنْکَرَ مِنْہُ شَیْئًا غَیْرَ أَنَّہُ قَالَ : أَسَمَّتْ لَکَ الرَّجُلَ الآخَرَ الَّذِی کَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ۔فَقُلْتُ لاَ ۔قَالَ : ہُوَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ جَمِیعًا عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُونُسَ۔
وَقَدْ رُوِیَ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ مُوسَی بْنِ أَبِی عَائِشَۃَ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ صَلَّی بِالنَّاسِ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی الصَّفِّ خَلْفَہُ وَحُسْنُ سِیَاقِ زَائِدَۃَ بْنِ قُدَامَۃَ لِلْحَدِیثِ یَدُلُّ عَلَی حِفْظِہِ وَأَنَّ غَیْرَہَ لَمْ یَحْفَظْہُ حِفْظَہُ وَلِذَلِکَ ذَکَرَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ رَحَمَہُمَا اللَّہُ تَعَالَی فِی کِتَابَیْہِمَا دُونَ رِوَایَۃِ مَنْ خَالَفَہُ۔وَکَذَلِکَ رُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۶۵۵]
(٥٠٧٧) عبداللہ بن عتبہ فرماتے ہیں کہ میں عائشہ (رض) کے پاس آیا، میں نے کہا : کیا آپ مجھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیماری کے بارے میں بیان کریں گی ؟ فرمایا : کیوں نہیں ! پھر انھوں نے لمبی حدیث بیان کی۔ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر کو پیغام بھیجا کہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ قاصد آیا اور اس نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کو حکم دے رہے ہیں کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ ابوبکر (رض) کہنے لگے : ” وہ نرم دل تھے “ اے عمر ! لوگوں کو نماز پڑھا دو ۔ انھوں نے فرمایا : آپ اس کے زیادہ حق دار ہیں۔ ابوبکر (رض) نے ان ایام میں لوگوں کو امامت کروائی، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ راحت محسوس کی تو دو آدمیوں کے سہارے نماز ظہر کے لیے تشریف لائے، ایک عباس تھے اور ابوبکر نماز پڑھا رہے تھے۔ جب ابوبکر (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا تو پیچھے ہٹے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ پیچھے نہ ہٹیں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں سے کہا کہ مجھے ان کے پہلو میں بٹھا دو تو ان دونوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ابوبکر کے پہلو میں بیٹھا دیا۔ فرماتی ہیں کہ لوگ ابوبکر (رض) کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے اور ابوبکر (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتدا میں نماز ادا کر رہے تھے اور رسول اللہ بیٹھے ہوئے تھے۔
عبیداللہ بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عباس (رض) کے پاس آیا، میں نے کہا : میں آپ کے سامنے وہ بیان کروں جو عائشہ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیماری کے متعلق بیان کیا، فرمایا : بیان کرو میں نے ان کے سامنے بیان کیا، انھوں کچھ بھی انکار نہیں کیا۔ لیکن یہ پوچھا کہ کیا انھوں نے عباس (رض) کے ساتھ دوسرے آدمی کا تذکرہ کیا ؟ میں نے کہا : نہیں، فرمایا : وہ علی (رض) تھے۔