hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 5078

.

سنن البيهقي

5078
Sunan Al Bayhaqi
(۵۰۷۸) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا ابْنُ رَجَائٍ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَرْقَمَ بْنِ شُرَحْبِیلَ قَالَ : سَافَرْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ مِنَ الْمَدِینَۃِ إِلَی الشَّامِ فَسَأَلْتُہُ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی مَرِضِ النَّبِیِّ -ﷺ- إِلَی أَنْ قَالَ : فَرَأَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ نَفْسِہِ خِفَّۃً فَخَرَجَ یُہَادَی بَیْنَ رَجُلَیْنِ فَلَمَّا أَحَسَّ النَّاسُ سَبَّحُوا فَذَہَبَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَتَأَخَّرُ فَأشَارَ إِلَیْہِ بِیَدِہِ مَکَانَکَ فَاسْتَفْتَحَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ حَیْثُ انْتَہَی أَبُو بَکْرٍ مِنَ الْقُرْآنِ وَأَبُو بَکْرٍ قَائِمٌ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- جَالِسٌ فَائْتَمَّ أَبُو بَکْرٍ بِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَائْتَمَّ النَّاسُ بِأَبِی بَکْرٍ فَمَا قَضَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الصَّلاَۃَ حَتَّی ثَقُلَ جِدًّا فَخَرَجَ یُہَادَی بَیْنَ رَجُلَیْنِ وَإِنَّ رِجْلَیْہِ لَتَخُطَّانِ فِی الأَرْضِ فَمَاتَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَلَمْ یُوصِ ۔وَبِمَعْنَاہُ رُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عَائِشَۃَ۔ [صحیح۔ احمد ۱/۳۵۶]
(٥٠٧٨) ارقم بن شرحبیل فرماتے ہیں : میں نے ابن عباس (رض) کے ساتھ مدینہ سے شام تک سفر کیا، میں نے ان سے پوچھا تو انھوں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیماری کے متعلق حدیث ذکر کی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ آرام محسوس کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو آدمیوں کے سہارے نکلے ۔ جب لوگوں نے محسوس کیا تو ” سبحان اللہ کہا : ابوبکر (رض) پیچھے ہٹنے لگے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اشارہ کیا کہ اپنی جگہ ٹھہرو۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن وہاں سے شروع کیا، جہاں سے ابوبکر (رض) نے چھوڑا تھا۔ ابوبکر (رض) کھڑے تھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھے ہوئے تھے۔ ابوبکر (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتدا کی اور لوگوں نے ابوبکر (رض) کی اقتدا کی۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پوری کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طبیعت بوجھل ہوگئی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو آدمیوں کے سہارے چلے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاؤں کے ساتھ زمین پر لکیر بن رہی تھی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتقال ہوا لیکن آپ نے وصیت نہیں کی۔