(۵۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَۃَ قَالَ : انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِی فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَمَعَہُ دَرَقَۃٌ أَوْ شِبْہُ الدَّرَقَۃِ ، فَجَلَسَ فَاسَتَتَرَ بِہَا فَبَالَ وَہُوَ جَالِسٌ ، فَقُلْتُ أَنَا وَصَاحِبِی : انْظُرْ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- کَیْفَ یَبُولُ کَمَا تَبُولُ الْمَرْأَۃُ وَہُوَ جَالِسٌ ، فَأَتَانَا فَقَالَ : ((أَمَا عَلِمْتُمْ مَا لَقِیَ صَاحِبُ بَنِی إِسْرَائِیلَ ، کَانَ إِذَا أَصَابَ أَحَدًا مِنْہُمْ شَیْئٌ مِنَ الْبَوْلِ قَرَضَہُ بِالْمِقْرَاضِ ۔ فَنَہَاہُمْ عَنْ ذَلِکَ فَعُذِّبَ فِی قَبْرِہِ))۔
[ضعیف۔ أخرجہ أبو داؤد ۲۲]
(٥٠٩) عبد الرحمن بن حسنہ فرماتے ہیں کہ میں اور عمرو بن عاص (رض) چلے تو رسول اللہ تشریف لائے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ڈھال یا ڈھال نما کوئی چیز تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پردہ کیا اور بیٹھنے کی حالت میں پیشاب کیا۔ میں اور میرے ساتھی نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف دیکھو کیسے پیشاب کرتے ہیں جیسے عورت پیشاب کرتی ہے حالانکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھے ہوئے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تمہیں معلوم نہیں ہے جو بنی اسرائیل والوں کو پہنچا تھا کہ جب ان کو پیشاب وغیرہ لگ جاتا تو اس کو قینچیوں سے کاٹ دیتے تھے، پھر جب وہ اس کام سے رک گئے تو اپنی قبر میں عذاب دیے گئے۔