(۵۱۷۰) وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَیْسٍ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ۔إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : کَانَتْ تُصَلِّی خَلْفَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- امْرَأَۃٌ حَسْنَائُ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ۔وَکَانَ بَعْضُ الْقَوْمِ یَسْتَقْدِمُ فِی الصَّفِّ الأَوَّلِ لَئِلاَّ یَرَاہَا ، وَیَسْتَأْخِرُ بَعْضُہُمْ حَتَّی یَکُونَ فِی الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ فَإِذَا رَکَعَ قَالَ ہَکَذَا وَنَظَرَ مِنْ تَحْتِ إِبْطِہِ وَجَافَی یَدَہُ فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی فِی شَأْنِہَا {وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِینَ مِنْکُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِینَ}[الحجر: ۲۴]
[منکر۔ انظر ما قبلہ]
(٥١٧٠) نوح بن قیس فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے حسین عورتیں نماز پڑھتی تھیں۔ بعض لوگ پہلی صفوں میں چلے جاتے تاکہ ان کو دیکھ نہ سکیں اور بعض آخری صف میں کھڑے ہوتے۔ جب رکوع کرتے تو اپنی بغلوں کے نیچے سے دیکھتے اور اپنے ہاتھوں کو پہلوؤں سے دور رکھتے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : { وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِینَ مِنْکُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِینَ } [الحجر : ٢٤] ہم آگے بڑھ جانے والوں کو بھی جانتے ہیں اور پیچھے رہ جانے والوں کو بھی۔