(۵۲۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَغَیْرُہُمَا قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی حَازِمٍ قَالَ : سَأَلُوا سَہْلَ بْنَ سَعْدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْ أَیِّ شَیْئٍ مِنْبَرُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : مَا بَقِیَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَعْلَمُ بِہِ مِنِّی۔مِنْ أَثْلِ الْغَابَۃِ عَمِلَہُ لَہُ فُلاَنٌ مَوْلَی فُلاَنَۃَ۔وَلَقَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- حِینَ صَعِدَ عَلَیْہِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ فَکَبَّرَ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَکَعَ ثُمَّ نَزَلَ الْقَہْقَرَی فَسَجَدَ ثُمَّ صَعِدَ فَقَرَأَ ثُمَّ رَکَعَ ثُمَّ نَزَلَ الْقَہْقَرَی فَسَجَدَ۔
أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری ۸۷۵]
(٥٢٢٩) سفیان ابو حازم سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے سھل بن سعد سے بھی سوال کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا منبر کس چیز کا بنا ہوا تھا ؟ فرمایا : لوگوں میں کوئی بھی باقی نہیں جو مجھ سے زیادہ جانتا ہو وہ جھاؤ کی لکڑی کا بنا ہوا تھا فلاں کے غلام نے بنایا تھا اور میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ہے جب وہ اس پر چڑھتے تو قبلہ رخ ہو کر اللہ اکبر کہتے۔ پھر قرآن پڑھتے پھر رکوع کرتے پھر الٹے پاؤں منبر سے نیچے آتے اور سجدہ کرتے، پھر منبر پر چڑھ جاتے تو قرآن پڑھتے، پھر رکوع کرتے، پھر الٹے پاؤں منبر سے نیچے آتے اور سجدہ کرتے۔