(۵۲۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الإِسْفِرَائِنِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَحْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْبَرْبَہَارِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ وَأَبُو الزُّبَیْرِ کَمْ شَائَ اللَّہُ أَنَّہُمَا سَمِعَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ یَقُولُ : کَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ یُصَلِّی مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- الْعِشَائَ ثُمَّ یَرْجِعُ إِلَی قَوْمِہِ بَنِی سَلِمَۃَ فَیُصَلِّیہَا بِہِمْ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَخَّرَ الْعِشَائَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ۔فَصَلاَّہَا مُعَاذٌ مَعَہُ ، ثُمَّ رَجَعَ فَأَمَّ قَوْمَہُ فَافْتَتَحَ سُورَۃَ الْبَقَرَۃِ فَتَنَحَّی رَجُلٌ مِنْ خَلْفِہِ فَصَلَّی وَحْدَہُ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالُوا : نَافَقْتَ یَا فُلاَنُ ۔فَقَالَ : مَا نَافَقْتُ وَلَکِنِّی آتِی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَأُخْبِرُہُ۔فَأَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّک أَخَّرْتَ الْعِشَائَ الْبَارِحَۃَ وَإِنَّ مُعَاذًا صَلاَّہَا مَعَکَ ثُمَّ رَجَعَ فَأَمَّنَا فَافْتَتَحَ سُورَۃَ الْبَقَرَۃِ فَتَنَحَّیْتُ فَصَلَّیْتُ وَحْدِی وَإِنَّمَا نَحْنُ أَہْلُ نَوَاضِحَ نَعْمَلُ بِأَیْدِینَا فَالْتَفَتَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی مُعَاذٍ فَقَالَ : ((أَفَتَّانٌ یَا مُعَاذُ ، أَفَتَّانٌ أَنْتَ۔اقْرَأْ بِسُورَۃِ کَذَا وَسُورَۃِ کَذَا))۔ [صحیح۔ تقدم برقم ۵۱۰۰]
(٥٢٥١) جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ معاذ بن جبل (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عشا کی نماز پڑھا کرتے تھے۔ پھر اپنی قوم بنو سلمہ کے پاس آ کر ان کو نماز پڑھاتے۔ ایک رات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشا کی نماز میں تاخیر کردی تو معاذ (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھی ۔ پھر اپنی قوم کے پاس آئے ان کی امامت کروائی تو سو رہ بقرہ شروع کردی تو ایک آدمی جماعت سے الگ ہوا اور اکیلے نماز پڑھ لی۔ صبح جب نماز سے فارغ ہوئے تو کہنے لگے : اے فلاں ! تو منافق ہوگیا ہے۔ فرمایا : میں منافق نہیں ہوا لیکن میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا کر ان کو بتاؤں گا۔ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ! معاذ (رض) نے گزشتہ رات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عشا کی نماز پڑھی، پھر وہ ہماری طرف لوٹے اور سورة بقرہ شروع کردی۔ میں نے الگ ہو کر اپنی نماز پڑھ لی۔ ہم پانی بھرنے والے لوگ ہیں ہاتھوں سے کام کرتے ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معاذ کی طرف دیکھا تو فرمایا : اے معاذ ! تم فتنہ ڈالنے والے ہو۔ فلاں فلاں سورت پڑھا کرو۔