(۵۲۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ بِنَیْسَابُورَ وَأَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ قَالاَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ قَالاَ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ إِسْمَاعِیلَ عَنْ قَیْسٍ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی لأَتَخَلَّفُ عَنْ صَلاَۃِ الصُّبْحِ مِمَّا یُطَوِّلُ بِنَا فُلاَنٌ۔فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((إِنَّ مِنْکُمْ مُنَفِّرِینَ فَأَیُّکُمْ أَمَّ النَّاسَ فَلْیُخَفِّفْ فَإِنَّ فِیہُمُ الْکَبِیرَ وَالسَّقِیمَ وَذَا الْحَاجَۃِ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی عُمَرَ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری ۹۰]
(٥٢٦٤) ابو مسعود (رض) فرماتے ہیں : ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میں صبح کی نماز سے پیچھے رہ جاتا ہوں، کیونکہ فلاں صاحب نماز لمبی کردیتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے لوگوں کو متنفر کرنے والے بھی ہیں۔ جو لوگوں کی امامت کروائے تو وہ نماز میں تخفیف کرے۔ کیونکہ بیمار، بوڑھے اور ضرورت مند موجود ہوتے ہیں۔