(۵۲۶۵) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ الأَنْصَارِیِّ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی لاَ أَکَادُ أُدْرِکُ الصَّلاَۃَ مِمَّا یُطَوِّلُ بِنَا فُلاَنٌ۔فَمَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فِی مَوْعِظَۃٍ کَانَ أَشَدَّ غَضَبًا مِنْہُ یَوْمَئِذٍ۔فَقَالَ : ((أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّ مِنْکُمْ مُنَفِّرِینَ۔مِنْ صَلَّی بِالنَّاسِ فَلْیُخَفِّفْ فَإِنَّ فِیہِمُ الْمَرِیضَ ، وَالضَّعِیفَ ، وَذَا الْحَاجَۃِ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَثِیرٍ۔ [صحیح۔ معنی فی الذی قبلہ]
(٥٢٦٥) ابو مسعود انصاری فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ! میں تو باجماعت نماز نہیں پڑھ سکتا، جس طرح فلاں نماز کو لمبا کردیتا ہے۔ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کسی خطبے میں اتنے غصہ میں نہیں دیکھا جتنے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس دن غصہ تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے لوگو ! تمہارے بعض لوگ نفرت دلانے والے ہیں، لہٰذا جو لوگوں کو نماز پڑھائے۔ وہ اس میں تخفیف کرے کیونکہ ان میں بیمار، کمزور اور حاجت والے ہوتے ہیں۔