(۵۲۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَینِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ ہُوَ ابْنُ أَبِی خَالِدٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ فَنَزَلْتُ عَلَی أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَکَانَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ مَوَالِیَّ قَرَابَۃٌ۔فَکَانَ یَؤُمُّ النَّاسَ فَیُخَفِّفُ فَقُلْتُ : یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ أَہَکَذَا کَانَتْ صَلاَۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((نَعَمْ وَأَوْجَزَ))۔ [ضعیف۔ ابو یعلیٰ ۶۴۲۲]
(٥٢٧٠) اسماعیل بن خالد فرماتے ہیں : میں مدینہ میں ابوہریرہ (رض) کے پاس آیا۔ میرے اور ان کے درمیان قرابت تھی۔ وہ لوگوں کو امامت کرواتے تھے اور نماز مختصر پڑھاتے تھے۔ میں نے پوچھا : اے ابوہریرہ ! کیا اسی طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز تھی ؟ فرمایا : ہاں بلکہ اس سے بھی مختصر تھی۔