(۵۲۷۳) فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مِقْسَمٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ : فَذَکَرَ قِصَّۃَ مُعَاذٍ وَتِلْکَ الْقَصَّۃُ قَالَ : کَانَ مُعَاذٌ یُصَلِّی مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الْعِشَائَ ثُمَّ یَرْجِعُ فَیُصَلِّی بِأَصْحَابِہِ ، فَرَجَعَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ فَصَلَّی بِہِمْ وَصَلَّی خَلْفَہُ فَتًی مِنْ قَوْمِہِ ، فَلَمَّا طَالَ عَلَی الْفَتَی صَلَّی وَخَرَجَ ، فَأَخَذَ بِخِطَامِ بَعِیرِہِ وَانْطَلَقَ۔فَلَمَّا صَلَّی مُعَاذٌ ذُکِرَ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : إِنَّ ہَذَا بِہِ لَنِفَاقٌ۔ لأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بِالَّذِی صَنَعَ۔وَقَالَ الْفَتَی : وَأَنَا لأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بِالَّذِی صَنَعَ ، فَغَدَوْا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَخْبَرَہُ مُعَاذٌ بِالَّذِی صَنَعَ الْفَتَی۔فَقَالَ الْفَتَی : یَا رَسُولَ اللَّہِ یُطِیلُ الْمُکْثَ عِنْدَکَ ، ثُمَّ یَرْجِعُ فَیُطَوِّلُ عَلَیْنَا۔فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَفَتَّانٌ أَنْتَ یَا مُعَاذُ))۔وَقَالَ لِلْفَتَی : ((کَیْفَ تَصْنَعُ یَا ابْنَ أَخِی إِذَا صَلَّیْتَ؟))۔قَالَ : أَقْرَأُ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ ، وَأَسْأَلُ اللَّہَ الْجَنَّۃَ ، وَأَعُوذُ بِہِ مِنَ النَّارِ ، وَإِنِّی لاَ أَدْرِی مَا دَنْدَنَتُکَ وَدَنْدَنَۃُ مُعَاذٍ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنِّی وَمُعَاذٌ حَوْلَ ہَاتَیْنِ)) أَوْ نَحْوَ ذَا ۔قَالَ قَالَ الْفَتَی : وَلَکِنْ سَیَعْلَمُ مُعَاذٌ إِذَا قَدِمَ الْقَوْمُ وَقَدْ خُبِرُوا أَنَّ الْعَدُوَّ قَدْ دَنُوا۔قَالَ : فَقَدِمُوا فَاسْتُشْہِدَ الْفَتَی۔ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- بَعْدَ ذَلِکَ لِمُعَاذٍ: ((مَا فَعَلَ خَصْمِی وَخَصْمُکَ))۔قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ صَدَقَ اللَّہُ ، وَکَذَبْتُ اسْتُشْہِدَ۔
(٥٢٧٣) جابر (رض) نے معاذ کا قصہ ذکر کیا، اس میں ہے کہ معاذ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عشا کی نماز پڑھتے تھے، پھر واپس آ کر اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے۔ ایک رات واپس آ کر نماز پڑھائی اور ان کی قوم کے ایک جو ان نے ان کے پیچھے نماز پڑھی۔ جب نوجوان پر نماز لمبی ہوئی تو اس نے جماعت کو چھوڑا اور اپنی نماز پڑھی اور اپنے اونٹ کی نکیل پکڑی اور چلا گیا۔ جب معاذ نماز سے فارغ ہوئے تو انھیں بتایا گیا تو وہ کہنے لگے : یہ منافق ہے، میں اس کی خبر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دوں گا اور نوجوان کہنے لگا : میں بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دوں گا، جو اس نے کیا۔ صبح کے وقت وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے تو معاذ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا، جو جوان نے کیا تھا۔ نوجوان کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ! یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس زیادہ دیر ٹھہرتے ہیں اور واپس آ کر ہمیں لمبی نماز پڑھاتے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے معاذ ! کیا تو فتنہ باز ہے اور نوجوان سے پوچھا : اے بھیجتے ! جب تو نماز پڑھتا ہے تو کیا کرتا ہے، کہنے لگے : میں سورة فاتحہ پڑھتا ہوں اور اللہ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے پناہ مانگتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں : میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور معاذ کا کلام نہ سمجھ سکا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اور معاذ ان دو کے ارد گرد ہیں یا اس کی مثل فرمایا۔ راوی کہتے ہیں : نوجوان نے کہا : لیکن معاذ جان لیں گے جب لوگ آئیں گے اور انھیں خبر دی جائے گی کہ دشمن قریب ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ آئے تو نوجوان شہید ہوچکا تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بعد معاذ سے فرمایا : میرے اور تیرے ساتھ جھگڑا کرنے والے کا کیا بنا۔ معاذ (رض) نے عرض کیا : اللہ نے سچ فرمایا اور میں نے جھوٹ بولا، وہ شہید ہوگیا۔