(۵۲۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی الْمَعْرُوفِ الْفَقِیہُ الْمَہْرَجَانِیُّ بِہَا حَدَّثَنَا أَبُو سَہْلٍ : بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِشْرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ جَنَادٍ الْحَلَبِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ زَیْدِ بْنِ أَبِی أُنَیْسَۃَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ یَقُولُ : لَقَدْ عِشْنَا بُرْہَۃً مِنْ دَہْرِنَا وَأَحَدُنَا یُؤْتَی الإِیمَانَ قَبْلَ الْقُرْآنِ ، وَتَنْزِلُ السُّورَۃُ عَلَی مُحَمَّدٍ -ﷺ- فَیَتَعَلَّمُ حَلاَلَہَا ، وَحَرَامَہَا ، وَآمِرَہَا ، وَزَاجِرَہَا ، وَمَا یَنْبَغِی أَنْ یَقِفَ عِنْدَہُ مِنْہَا۔کَمَا تَعَلَّمُونَ أَنْتُمُ الْیَوْمَ الْقُرْآنَ ، ثُمَّ لَقَدْ رَأَیْتُ الْیَوْمَ رِجَالاً یُؤْتَی أَحَدُہُمُ الْقُرْآنَ قَبْلَ الإِیمَانِ فَیَقْرَأُ مَا بَیْنَ فَاتِحَتِہِ إِلَی خَاتِمَتِہِ مَا یَدْرِی مَا آمِرُہُ وَلاَ زَاجِرُہُ وَلاَ مَا یَنْبَغِی أَنْ یَقِفَ عِنْدَہُ مِنْہُ فَیَنْثُرُہُ نَثْرَ الدَّقَلِ۔ [ضعیف۔ حاکم ۱/۹۱]
(٥٢٩٠) قاسم بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر (رض) سے سنا کہ ہم نے اپنی زندگی اس طرح گزاری کہ پہلے ایمان سیکھتے پھر قرآن سیکھتے۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کوئی سورت نازل ہوتی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حلال، حرام، اس آیت کے احکام اور توبیخ سیکھ لیتے۔ پھر یہ لائق و مناسب ہی نہیں سمجھا جاتا کہ وہ چیز اس کے پاس رکی رہے۔ جیسے آج تم قرا آن سیکھتے ہو۔ میں نے دیکھا ہے آج کے مردوں کو کہ ایمان سے پہلے قرآن حاصل کرلیتے ہیں اور فاتحہ سے لے کر آخر تک پڑھ جاتے ہیں لیکن کوئی اس کے احکامات، زجر و توبیخ اور جو کچھ اس میں ہے اس کے متعلق کچھ نہیں جانتا۔ وہ اس کو یوں پڑھتا ہے جیسے کوئی ردی کلام ہو۔