hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 5302

.

سنن البيهقي

5302
Sunan Al Bayhaqi
(۵۳۰۲) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّی حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ عُمَیْرِ بْنِ ہَانِئٍ قَالَ : بَعَثَنِی عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مَرْوَانَ بِکُتُبٍ إِلَی الْحَجَّاجِ فَأَتَیْتُہُ وَقَدْ نَصَبَ عَلَی الْبَیْتِ أَرْبَعِینَ مَنْجَنِیقًا ، فَرَأَیْتُ ابْنَ عُمَرَ إِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَۃُ مَعَ الْحَجَّاجِ صَلَّی مَعَہُ ، وَإِذَا حَضَرَ ابْنُ الزُّبَیْرِ صَلَّی مَعَہُ۔فَقُلْتُ لَہُ : یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَتُصَلِّی مَعَ ہَؤُلاَئِ وَہَذِہِ أَعْمَالُہُمْ۔فَقَالَ : یَا أَخَا أَہْلِ الشَّامِ مَا أَنَا لَہُمْ بِحَامِدٍ ، وَلاَ نُطِیعُ مَخْلُوقًا فِی مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ ۔قَالَ قُلْتُ : مَا تَقُولُ فِی أَہْلِ الشَّامِ؟ قَالَ : مَا أَنَا لَہُمْ بِحَامِدٍ۔قُلْتُ : فَمَا قُولُکُ فِی أَہْلِ مَکَّۃَ؟ قَالَ : مَا أَنَا لَہُمْ بِعَاذِرٍ۔یَقْتَتِلُونَ عَلَی الدُّنْیَا یَتَہَافَتُونَ فِی النَّارِ تَہَافُتَ الذُّبَانِ فِی الْمَرَقِ۔ قُلْتُ : فَمَا قَوْلُکَ فِی ہَذِہِ الْبَیْعَۃِ الَّتِی أَخَذَ عَلَیْنَا مَرْوَانُ۔قَالَ ابْنُ عُمَرَ : کُنَّا إِذَا بَایَعْنَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ یُلَقِّنُنَا ((فِیمَا اسْتَطَعْتُمْ))۔ [لغیرہٖ۔ ابن ابی شیبہ ۲/۸۴]
(٥٣٠٢) عمیر بن ھانی کہتے ہیں کہ عبد الملک بن مروان نے مجھے خط دے کہ حجاج کی طرف بھیجا۔ میں اس کے پاس آیا تو اس نے بیت اللہ پر چالیس منجنیقیں نصب کی ہوئی تھیں۔ میں نے ابن عمر (رض) کو دیکھا، وہ حجاج کے ساتھ نماز پڑھ رہے ہیں، جب ابن زبیر آئے تو ان کے ساتھ بھی نماز پڑھی۔ میں نے ان سے کہا : اے ابو عبد الرحمن ! آپ ان کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں اور ان کے یہ اعمال ہیں تو انھوں نے فرمایا : اے شامی بھائی ! میں ان کی تعریف کرنے والا نہیں ہوں اور نہ ہی خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت کرنے والا ہوں۔ فرماتے ہیں : میں نے کہا : آپ شام والوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ فرمایا : میں ان کی تعریف کرنے والا نہیں ہوں ۔ میں نے کہا : مکہ والوں کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ فرمایا : میں ان کا عذر قبول کرنے والا نہیں ہوں۔ وہ دنیا کے حصول کے لیے لڑ رہے ہیں اور اپنے آپ کو جہنم میں گرا رہے ہیں۔ جیسے مکھیاں شوربے میں گرتی ہیں۔ میں نے کہا : آپ کا اس بیعت کے بارے میں کیا خیال ہے جو مروان نے لی۔ ابن عمر (رض) نے فرمایا : جب ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سمع اور اطاعت پر بیعت کرتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے دیا کرتے تھے کہ جتنی تم طاقت رکھو۔