(۵۳۱۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَدِیٍّ یَعْنِی ابْنَ الْخِیَارِ أَنَّہُ دَخَلَ عَلَی عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ مَحْصُورٌ وَعَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُصَلِّی بِالنَّاسِ فَقَالَ : إِنِّی أُحْرَجُ أَنْ أُصَلِّیَ مَعَ ہَؤُلاَئِ وَأَنْتَ الإِمَامُ قَالَ فَقَالَ لَہُ عُثْمَانُ : إِنَّ الصَّلاَۃَ أَحْسَنُ مَا عَمِلَ النَّاسُ۔فَإِذَا رَأَیْتَہُمْ یُحْسِنُونَ فَأَحْسِنْ مَعَہُمْ ، وَإِذَا رَأَیْتَہُمْ یُسِیئُونَ فَاجْتَنِبْ سِیئَہُمْ۔
[صحیح۔ بخاری ۶۶۳]
(٥٣١١) عبید اللہ بن عدی حضرت عثمان کے پاس آئے جب کہ وہ محصور تھے۔ علی (رض) لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ فرماتے ہیں کہ میں آیا تاکہ میں ان لوگوں کے ساتھ نماز پڑھوں اور آپ امام ہوں تو حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : نماز لوگوں کے تمام اعمال سے بہتر ہے۔ جب تو دیکھے کہ وہ نیکی کرتے ہیں تو تو بھی ان کے ساتھ نیکی کر اور جب تو دیکھے کہ لوگ برائی کرتے ہیں تو تو ان سے بچ۔