(۵۳۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَکِّیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَیْمٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : أَنَّ أَبَاہُ أَخْبَرَہُ أَنَّ الْوَلِیدَ بْنَ عُقْبَۃَ أَخَّرَ الصَّلاَۃَ بِالْکُوفَۃِ وَأَنَا جَالِسٌ مَعَ أَبِی فِی الْمَسْجِدِ۔فَقَامَ عَبْدُ اللَّہِ فَثَوَّبَ بِالصَّلاَۃِ فَصَلَّی بِالنَّاسِ۔فَأَرْسَلَ إِلَیْہِ الْوَلِیدُ : مَا حَمَلَکَ عَلَی مَا صَنَعْتَ؟ أَجَائَ کَ مِنْ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ أَمْرٌ فَسَمْعٌ وَطَاعَۃٌ ، أَمِ ابْتَدَعْتَ الَّذِی صَنَعْتَ؟ قَالَ : لَمْ یَأْتِنَا مِنْ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ أَمْرٌ وَمَعَاذَ اللَّہِ أَنْ أَکُونَ ابْتَدَعْتُ۔أَبَی اللَّہُ عَلَیْنَا وَرَسُولُہُ أَنْ نَنْتَظِرَکَ فِی صَلاَتِنَا وَتَتْبَعُ حَاجَتَکَ۔
[حسن۔ احمد ۱/۴۵۰]
(٥٣١٣) قاسم بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ ولید بن عقبہ نے کوفہ میں نماز کو مؤخر کردیا اور میں اپنے والد کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ہوا تھا۔ عبداللہ (رض) کھڑے ہوئے، تکبیر کہی اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ ولید نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ آپ کو اس پر کس چیز نے ابھارا۔ کیا امیر المؤمنین کی جانب سے کوئی اطاعت کا حکم آیا یا آپ نے اپنی جانب سے اس کی ابتدا کی ہے ؟ کہنے لگے : نہ تو امیرالمؤمنین کی جانب سے کوئی حکم آیا اور نہ ہی میں نے بدعت جاری کی ہے، بلکہ اللہ اور اس کے رسول اس بات سے منع کرتے ہیں کہ ہم اپنی نمازوں میں تمہارا انتظار کریں اور تم اپنے کاموں میں مصروف رہو۔