(۵۳۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَبَانُ عَنْ بُدَیْلٍ قَالَ حَدَّثَنِی أَبُو عَطِیَّۃَ مَوْلًی مِنَّا قَالَ: کَانَ مَالِکُ بْنُ الْحُوَیْرِثِ یَأْتِینَا إِلَی مُصَلاَّنَا ہَذَا۔ فَأُقِیمَتِ الصَّلاَۃُ فَقُلْنَا لَہُ : تَقَدَّمْ فَصَلِّ فَقَالَ لَنَا : قَدِّمُوا رَجُلاً مِنْکُمْ یُصَلِّی بِکُمْ ، وَسَأُحَدِّثُکُمْ لِمَ لاَ أُصَلِّی بِکُمْ۔ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((مَنْ زَارَ قَوْمًا فَلاَ یَؤُمَّہُمْ وَلْیَؤُمَّہُمْ رَجُلٌ مِنْہُمْ))۔
[حسن لغیرہٖ۔ احمد ۵/۵۳]
(٥٣٢٤) ابو عطیہ جو ہمارے غلام تھے فرماتے ہیں کہ مالک بن حویرث ہمارے پاس اس مسجد میں آئے تو نماز کی اقامت کہہ گئی تھی، ہم نے ان سے کہا : نماز پڑھاؤ۔ وہ کہتے کہ تم اپنے آدمی کو آگے کرو، وہ نماز پڑھائے، عنقریب میں تمہیں بیان کروں گا کہ میں تمہیں نماز کیوں نہیں پڑھاتا۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ جو کوئی کسی قوم کی زیارت کے لیے گیا وہ ان کی امامت نہ کروائے بلکہ ان کا آدمی ان کی امامت کرائے۔