(۵۳۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِیدِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِی نَافِعٌ قَالَ : أُقِیمَتِ الصَّلاَۃُ فِی مَسْجِدٍ بِطَائِفَۃِ الْمَدِینَۃِ وَلاِبْنِ عُمَرَ قَرِیبٌ مِنْ ذَلِکَ الْمَسْجِدِ أَرْضٌ یَعْمَلُہَا وَإِمَامُ ذَلِکَ الْمَسْجِدِ مَوْلًی لَہُ وَمَسْکَنُ ذَلِکَ الْمَوْلَی وَأَصْحَابِہِ ثَمَّ ، فَلَمَّا سَمِعَہُمْ عَبْدُ اللَّہِ جَائَ لِیَشْہَدَ مَعَہُمُ الصَّلاَۃَ۔فَقَالَ لَہُ الْمَوْلَی صَاحِبُ الْمَسْجِدِ : تَقَدَّمْ فَصَلِّ فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ : أَنْتَ أَحَقُّ أَنْ تُصَلِّیَ فِی مَسْجِدِکَ مِنِّی فَصَلَّی الْمَوْلَی۔
[صحیح لغیرہٖ۔ عبد الرزاق ۳۸۵۰]
(٥٢٢٥) نافع فرماتے ہیں کہ مدینہ کے گردو نواح میں ایک مسجد میں اقامت کہی گئی اور ابن عمر (رض) کی اس مسجد کے قریب زمین تھی وہ اس میں کام کرتے تھے۔ اس مسجد کا امام ان کا غلام تھا۔ اس غلام اور اس کے ساتھیوں کی رہائش گاہ اس جگہ تھی، جب ان کو پتہ چلا کہ ابن عمر (رض) نماز کے لیے آئے ہیں تو کہنے لگے : آگے بڑھو اور جماعت کراؤ۔ ابن عمر (رض) فرمانے لگے : آپ زیادہ حق دار ہیں کہ اپنی مسجد میں جماعت کروائیں تو ان کے غلام نے جماعت کروائی۔