(۵۳۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ أَبِی عُبَیْدٍ مِنْ أَشْیَاخِ کُوثَی مَوْلَی أَبِی رُہْمٍ الْغِفَارِیِّ عَنْ جَدِّہِ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ أَبِی ہُرَیْرَۃَ مِنَ الْمَسْجِدِ ضُحًی فَلَقِیَتْنَا امْرَأَۃٌ بِہَا مِنَ الْعِطْرِ شَیْء ٌ لَمْ أَجِدْ بِأَنْفِی مِثْلَہُ قَطُّ ، فَقَالَ لَہَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ : عَلَیْکِ السَّلاَمُ۔قَالَتْ : وَعَلَیْکَ۔قَالَ : فَأَیْنَ تُرِیدِینَ؟ قَالَتِ : الْمَسْجِدَ قَالَ فَلأَیِّ شَیْئٍ تَطَیَّبْتِ بِہَذَا الطِّیبِ قَالَتْ لِلْمَسْجِدِ قَالَ : آللَّہِ قَالَتْ : آللَّہِ ، قَالَ آللَّہِ قَالَتْ آللَّہِ قَالَ فَإِنَّ حِبِّی أَبَا الْقَاسِمِ -ﷺ- أَخْبَرَنِی أَنَّہُ لاَ تُقْبَلُ لاِمْرَأَۃٍ صَلاَۃٌ تَطَیَّبَتْ بِطِیبٍ لِغَیْرِ زَوْجِہَا حَتَّی تَغْتَسِلَ مِنْہُ غُسْلَہَا مِنَ الْجَنَابَۃِ فَاذْہَبِی فَاغْتَسِلِی مِنْہُ ثُمَّ ارْجِعِی فَصَلِّی۔ جَدُّہُ أَبُو الْحَارِثِ : عُبَیْدُ بْنُ أَبِی عُبَیْدٍ وَہُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ أَبِی الْحَارِثِ بْنِ أَبِی عُبَیْدٍ۔
وَرَوَاہُ عَاصِمُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ عُبَیْدٍ مَوْلَی أَبِی رُہْمٍ۔ [حسن لغیرہٖ]
(٥٣٧٦) عبد الرحمن بن حارث بن ابی عبید جو کو ثی کے شیوخ میں سے ہیں اور ابورہم غفاری کے غلام ہیں ، اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ میں ابوہریرہ (رض) کے ساتھ چاشت کے وقت مسجد سے نکلا تو ہمیں ایک عورت ملی جس نے عطر لگا رکھا تھا، میں نے اس طرح کی خوشبو پہلے کبھی نہ سونگھی تھی۔ ابوہریرہ (رض) نے اس کو سلام کیا تو اس نے جواب دیا۔ ابوہریرہ (رض) نے پوچھا : تو کہاں کا ارادہ رکھتی ہے ؟ کہنے لگی : مسجد کا ۔ ابوہریرہ (رض) نے پوچھا : تو نے کیوں خوشبو لگا رکھی ہے ؟ کہنے لگی : مسجد کے لیے ۔ ابوہریرہ (رض) نے فرمایا : کیا اللہ کی قسم ! کہنے لگی : ہاں اللہ کی قسم ! ابوہریرہ (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! تو عورتنی بھی کہا : اللہ کی قسم ! پھر ابوہریرہ نے (رض) فرمایا : میں نے اپنے محبوب ابو القاسم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ ایسی عورت جو اپنے خاوند کے بغیر کسی کے لیے خوشبو کا استعمال کرتی ہیں تو اس کی نماز قبول نہیں کی جائے گی یہاں تک کہ وہ غسل جنابت کی طرح غسل کرلے تو واپس پلٹی اور غسل کر کے نماز پڑھی۔