(۵۴۳۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی بْنِ صَالِحٍ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ قُرَّۃَ بِوَاسِطٍ عَنْ أَشْیَاخِ الْحَیِّ قَالَ : صَلَّی عُثْمَانُ الظُّہْرَ بِمِنًی أَرْبَعًا فَبَلَغَ ذَلِکَ عَبْدَ اللَّہِ فَعَابَ عَلَیْہِ ، ثُمَّ صَلَّی بِأَصْحَابِہِ فِی رَحْلِہِ الْعَصْرَ أَرْبَعًا فَقُلْتُ لَہُ : عِبْتَ عَلَی عُثْمَانَ وَصَلَّیْتَ أَرْبَعًا قَالَ : إِنِّی أَکْرَہُ الْخِلاَفَ وَقَدْ رُوِیَ ذَلِکَ بِإِسْنَادٍ مَوْصُولٍ۔
[صحیح لغیرہٖ۔ انظر ما سبق]
(٥٤٣٥) معاویہ بن قرۃ اپنے قبیلہ کیشیوخ سے نقل فرماتے ہیں کہ عثمان (رض) نے منیٰ میں چار رکعات نماز پڑھائی، یہ بات عبداللہ بن مسعود (رض) کو معلوم ہوئی تو انھوں نے ان پر عیب لگایا۔ پھر انھوں نے اپنے گھر عصر کی نماز چار رکعات پڑھائی۔ میں نے کہا : آپ عثمان (رض) پر عیب لگاتے ہو اور خود چار رکعات پڑھتے ہو ؟ فرمانے لگے : میں اختلاف کو ناپسند کرتا ہوں۔