(۵۴۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَُخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ قَالَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَاللَّفْظُ لَہُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنِی أَبِی قَالاَ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِی جُحَیْفَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : أَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- بِمَکَّۃَ وَہُوَ بِالأَبْطَحِ فِی قُبَّۃٍ لَہُ حَمْرَائَ مِنْ أَدَمٍ قَالَ فَخَرَجَ بِلاَلٌ بِوَضُوئِہِ فَمِنْ نَائِلٍ وَنَاضِحٍ قَالَ فَخَرَجَ النَّبِیُّ -ﷺ- عَلَیْہِ حُلَّۃٌ حَمْرَائُ کَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی بَیَاضِ سَاقَیْہِ قَالَ فَتَوَضَّأَ وَأَذَّنَ بِلاَلٌ قَالَ : فَجَعَلْتُ أَتَّبِعُ فَاہُ ہَا ہُنَا وَہَا ہُنَا یَقُولُ یَمِینًا وَشِمَالاً یَقُولُ حَیَّ عَلَی الصَلاَۃِ حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ قَالَ : ثُمَّ رُکِزَتْ لَہُ عَنَزَۃٌ فَتَقَدَّمَ فَصَلَّی الظُّہْرَ رَکْعَتَیْنِ یَمُرُّ بَیْنَ یَدَیْہِ الْحِمَارُ وَالْکَلْبُ لاَ یُمْنَعُ ، ثُمَّ صَلَّی الْعَصْرَ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ لَمْ یَزَلْ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ حَتَّی رَجَعَ إِلَی الْمَدِینَۃِ۔رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ مسلم ۵۰۳]
(٥٤٩٧) عون بن أبی جحیفہ اپنے والد سے راویت کرتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مکہ میں آیا، آپ ابطح نامی جگہ پر چمڑے کے بنے ہوئے سرخ خیمہ میں تھے۔ بلال (رض) سر کو ہلاتے ہوئے اور پانی گراتے ہوئے کہتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکلے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سرخ رنگ کی چادر تھا۔ گویا میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پنڈلیوں کی سفیدی کو دیکھ رہا ہوں۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا اور بلال نے اذان کہی اور بلال کا چہرہ دائیں بائیں مڑ رہا تھا۔ وہ کہہ رہے تھے : ” حی علی الصلاۃ ‘ حی علی الفلاح ‘ نماز کی طرف آؤ ‘ کامیابی کی طرف آؤ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے نیزہ گاڑ دیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز دو رکعت پڑھائی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے سے گدھے ، کتے گزر رہے تھے ۔ ان کو روکا نہیں گیا۔ پھر دو رکعات عصر کی پڑھائی۔ پھر مدینہ واپس آنے تک اس طرح دو دو رکعات پڑھتے رہے۔