hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 5516

.

سنن البيهقي

5516
Sunan Al Bayhaqi
(۵۵۱۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزْیَدٍ أَخْبَرَنِی أَبِی قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ جَابِرٍ یَقُولُ حَدَّثَنِی نَافِعٌ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ وَہُوَ یُرِیدُ أَرْضًا لَہُ فَنَزَلَ مَنْزِلاً فَأَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ لَہُ : إِنَّ صَفِیَّۃَ بِنْتَ أَبِی عُبَیْدٍ لِمَا بِہَا وَلاَ أَظُنُّ أَنْ تُدْرِکَہَا وَذَلِکَ بَعْدَ الْعَصْرِ قَالَ : فَخَرَجَ مُسْرِعًا وَمَعَہُ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ فَسِرْنَا حَتَّی إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ لَمْ یَقُلْ لِی الصَّلاَۃَ ، وَکَانَ عَہْدِی بِصَاحِبِی وَہُوَ مُحَافِظٌ عَلَی الصَّلاَۃِ ، فَلَمَّا أَبْطَأَ قُلْتُ : الصَّلاَۃَ یَرْحَمُکَ اللَّہُ۔فَمَا الْتَفَتَ إِلَیَّ ، ثُمَّ مَضَی کَمَا ہُوَ حَتَّی إِذَا کَانَ مِنْ آخِرِ الشَّفَقِ نَزَلَ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ أَقَامَ الصَّلاَۃَ وَقَدْ تَوَارَی الشَّفَقُ فَصَلَّی بِنَا ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیْنَا فَقَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا عَجِلَ بِہِ الأَمْرُ صَنَعَ ہَکَذَا۔ وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ فُضَیْلُ بْنُ غَزْوَانَ وَعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ نَافِعٍ وَرِوَایَۃُ الْحُفَّاظِ مِنْ أَصْحَابِ نَافِعٍ أَوْلَی بِالصَّوَابِ فَقَدْ رَوَاہُ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ وَأَسْلَمُ مَوْلَی عُمَرَ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ دِینَارٍ وَإِسْمَاعِیلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی ذُؤَیْبٍ وَقِیلَ ابْنِ ذُؤَیْبٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ نَحْوَ رِوَایَتِہِمْ۔ أَمَّا حَدِیثُ سَالِمٍ فرَوَاہُ عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَخِیہِ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ سَالِمٍ۔ وَأَمَّا حَدِیثُ أَسْلَمَ۔ [صحیح۔ انظر ما معنٰی]
(٥٥١٦) نافع فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر (رض) کے ساتھ نکلا، وہ اپنی زمین کی طرف جانے کا ارادہ رکھتے تھے، انھوں نے ایک جگہ پڑاؤ کیا۔ ایک شخص آیا اور کہنے لگا : صفیۃ بنت أبی عبید کو مسئلہ ہے اور میرا گمان نہیں کہ آپ ان کو پالیں اور یہ عصر کے بعد کا وقت تھا۔ وہ جلدی سے نکلے، ان کے ساتھ ایک قریشی آدمی تھا۔ ہم بھی چلے یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا اور مجھے نماز کا نہیں کہا۔ ایک زمانہ تھا جب میں اپنے ساتھیکے ساتھ نماز پر بڑی محافظت کرتا تھا۔ جب انھوں نے دیر کی تو میں نے کہا : نماز اللہ آپ پر رحم فرمائے۔ انھوں نے میری طرف توجہ ہی نہیں کی۔ پھر چلتے رہے یہاں تک کہ شفق کا آخری حصہ تھا اور اترے مغرب کی نماز پڑھی، پھر نماز کی اقامت ہوئی اور انھوں نے ہمیں نماز پڑھائی ۔ جب شفق غائب ہوچکی تھی۔ پھر وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے۔ اور فرمایا : جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کسی معاملہ کی جلدی ہوتی تو اس طرح کرلیتے۔