(۵۵۱۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ وَأَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزْیَدٍ الْعُذْرِیُّ بِبَیْرُوتَ أَخْبَرَنِی أَبِی حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَیْدٍ حَدَّثَنِی نَافِعٌ مَوْلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّہُ أَقْبَلَ مِنْ مَکَّۃَ وَجَائَ ہُ خَبَرُ صَفِیَّۃَ بِنْتِ أَبِی عُبَیْدٍ فَأَسْرَعَ السَّیْرَ۔فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ قَالَ لَہُ إِنْسَانٌ مِنْ أَصْحَابِہِ : الصَّلاَۃَ فَسَکَتَ ثُمَّ سَارَ سَاعَۃً فَقَالَ لَہُ صَاحِبُہُ : الصَّلاَۃَ فَسَکَتَ فَقَالَ الَّذِی قَالَ لَہُ الصَّلاَۃَ : إِنَّہُ لَیَعْلَمُ مِنْ ہَذَا عِلْمًا لاَ أَعْلَمُہُ فَسَارَ حَتَّی إِذَا کَانَ بَعْدَ مَا غَابَ الشَّفَقُ بِسَاعَۃٍ نَزَلَ فَأَقَامَ الصَّلاَۃَ۔وَکَانَ لاَ یُنَادَی لِشَیْئٍ مِنَ الصَّلاَۃِ فِی السَّفَرِ فَقَامَ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ جَمِیعًا جَمَعَ بَیْنَہُمَا ثُمَّ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ إِذَا جَدَّ بِہِ السَّیْرُ جَمَعَ بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ بَعْدَ أَنْ یَغِیبَ الشَّفَقُ بِسَاعَۃٍ ، وَکَانَ یُصَلِّی عَلَی ظَہْرِ رَاحِلَتِہِ أَیْنَ تَوَجَّہَتْ بِہِ السُّبْحَۃُ فِی السَّفَرِ وَیُخْبِرُہُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یَصْنَعُ ذَلِکَ
قَالَ وَقَالَ النَّیْسَابُورِیُّ بِشَیْئٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ فِی السَّفَرِ اتَّفَقَتْ رِوَایَۃُ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیِّ وَمُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ وَعُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ وَأَیُّوبَ السَّخْتِیَانِیِّ وَعُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ نَافِعٍ عَلَی أَنَّ جَمْعَ ابْنِ عُمَرَ بَیْنَ الصَّلاَتَیْنِ کَانَ بَعْدَ غَیْبُوبَۃِ الشَّفَقِ وَخَالَفَہُمْ مَنْ لاَ یُدَانِیہِمْ فِی حِفْظِ أَحَادِیثِ نَافِعٍ۔[صحیح۔ انظر قبلہ]
(٥٥١٥) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب وہ مکہ سے واپس ہوئے تو ان کو صفیۃ بنت ابی عبید کی خبرملی۔ وہ پھر تیز چلے۔ جب سورج غروب ہوگیا تو ایک ساتھی نے کہا : نماز ! وہ خاموش رہے اور چلتے رہے، پھر ایک ساتھی نے کہا : نماز ! وہ پھر خاموش ہوگئے تو پھر اس سے کہا، جس نے کہا تھا نماز : یہ وہ جانتا ہے جس کو میں نہیں جانتا اور چلتے رہے اور شفق غائب ہونے کے کچھ دیر بعد اترے اور نماز پڑھی۔ سفر میں نماز کے لیے اذان بھی نہیں دی۔ پھر مغرب وعشادونوں کو جمع کرلیا۔ پھر فرمایا : جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سفر کی جلدی ہوتی تو غروبِ شفق کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مغرب وعشا کو جمع کرلیتے اور وہ اپنی سواری پر سفر میں نفل پڑھ لیتے تھے، سواری کا منہ جدھر بھی ہوتا اور وہ ان کو خبر دے رہے تھے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی طرح کرتے تھے۔
نوٹ : ابن عمر (رض) نے شفق کے غروب کے بعد ان دو نمازوں کو جمع کیا ہے۔ ان کی مخالفت وہ کرتا ہے جس کو نافع کی احادیث یاد نہیں۔