(۵۵۲۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالُوَیْہِ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَی الْکَعْبِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ الثَّقَفِیُّ بِالرَّیِّ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ زَیْغِ الشَّمْسِ أَخَّرَ الظُّہْرَ حَتَّی یَجْمَعَہَا إِلَی الْعَصْرِ فَیُصَلِّیہِمَا جَمِیعًا، وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ زَیْغِ الشَّمْسِ صَلَّی الظُّہْرَ وَالْعَصْرَ جَمِیعًا ثُمَّ سَارَ، وَکَانَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ الْمَغْرِبِ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّی یُصَلِّیَہَا مَعَ الْعِشَائِ، وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ عَجَّلَ الْعِشَائَ فَصَلاَّہَا مَعَ الْمَغْرِبِ۔
تَفَرَّدَ بِہِ قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ عَنْ لَیْثٍ عَنْ یَزِیدَ۔ [صحیح۔ ابو داؤد ۱۲۲۰]
(٥٥٢٨) ابو طفیل معاذ بن جبل (رض) سے نفل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ تبوک میں تھے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سورج کے ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو مؤخر کردیتے ‘ یہاں تک کہ اس کو عصر کے ساتھ جمع فرماتے اور جب سورج ڈھلنے کے بعد کوچ کرتے تو ظہرو عصر کو اکٹھا ہی پڑھ لیتے ‘ پھر چلتے اور جب مغرب سے پہلے کوچ کرتے تو مغرب کو مؤخر کرلیتے اور عشا کے ساتھ پڑھ لیتے۔ جب مغرب کے بعد کوچ کرتے تو عشا کو مغرب کے ساتھ جلدی پڑھ لیتے۔