(۵۵۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبُ بْنُ أَبِی حَمْزَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ أَخْبَرَنِی سَالِمٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا أَعْجَلَہُ السَّیْرُ فِی السَّفَرِ یُؤَخِّرُ صَلاَۃَ الْمَغْرِبِ حَتَّی یَجْمَعَ بَیْنَہَا وَبَیْنَ الْعِشَائِ ۔قَالَ سَالِمٌ : وَکَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ یَفْعَلُ ذَلِکَ إِذَا أَعْجَلَہُ السَّیْرُ یُقِیمُ صَلاَۃَ الْمَغْرِبِ فَیُصَلِّیہَا ثَلاَثًا ثُمَّ یُسَلِّمُ ، ثُمَّ قَلَّ مَا یَلْبَثُ حَتَّی یُقِیمَ صَلاَۃَ الْعِشَائِ وَیُصَلِّیہَا رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ یُسَلِّمُ وَلاَ یُسَبِّحُ بَیْنَہُمَا بِرَکْعَۃٍ وَلاَ یُسَبِّحُ بَعْدَ الْعِشَائِ بِسَجْدَۃٍ حَتَّی یَقُومَ مِنْ جَوْفِ اللَّیْلِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ ۔ [صحیح۔ انظر ۵۵۱۲]
(٥٥٣٧) سالم عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ‘ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سفر میں جلدی ہوتی تو مغرب کو مؤخر کر کے عشا کے ساتھ جمع فرماتے۔ سالم کہتے ہیں : جب عبداللہ بن عمر (رض) کو جلدی ہوتی وہ بھی ایسے ہی کرتے تھے۔ مغرب کی نماز قائم کرتے تو تین رکعات ادا کرتے، پھر سلام پھیرتے نہ تو ان دو نمازوں کے درمیان نفل پڑھتے اور نہ ہی عشا کے بعد ایک رکعت پڑھتے بلکہ رات کا قیام فرماتے۔