(۵۵۳۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ أَنَّہُ قَالَ لِسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ : مَا أَشَدَّ مَا رَأَیْتُ أَبَاکَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ فِی السَّفَرِ قَالَ : غَرَبَتْ لَہُ الشَّمْسُ بِذَاتِ الْجَیْشِ فَصَلاَّہَا بِالْعَقِیقِ۔
وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ وَزَاد فِیہِ ثَمَانِیَۃَ أَمْیَالٍ وَرَوَاہُ ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ وَزَادَ فِیہِ قَالَ قُلْتُ : أَیُّ سَاعَۃٍ تِلْکَ؟ قَالَ قَدْ ذَہَبَ ثُلُثُ اللَّیْلِ أَوْ رُبُعُہُ
وَرَوَاہُ یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ نَافِعٍ قَالَ فَسَارَ أَمْیَالاً ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّی قَالَ یَحْیَی وَذَکَرَ لِی نَافِعٌ ہَذَا الْحَدِیثَ مَرَّۃً أُخْرَی فَقَالَ سَارَ قَرِیبًا مِنْ رُبُعِ اللَّیْلِ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّی۔ [صحیح۔ مالک ۳۳۶]
(٥٥٣٨) یحییٰ بن سعید سالم بن عبداللہ بن عمر (رض) سیکہنے لگے : میں نے تیرے باپ کو دیکھا ہے وہ مغرب کو بہت زیادہ مؤخر کردیتے تھے۔ ذات الجیش نامی جگہ پر سورج غروب ہوجاتا تو عقیق نامی جگہ پر جا کر نماز پڑھتے۔ یہی حدیث ثوری نے یحییٰ بن سعید سے روایت کی ہے، انھوں نے کچھ الفاظ زائد بیان کیے ہیں، ان میں آٹھ میل کا فاصلہ ہے اور ابن جریج یحییٰ بن سعید سے روایت کرتے ہیں۔ اس میں یہ الفاظ ہیں۔ میں نے کہا : یہ کونسی گھڑی ہوتی ہے ؟ فرمایا : رات کا تہائی حصہ یا چوتھائی۔ ” یحییٰ بن سعید نافع سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ کئی میل چلتے ، پھر اترتے اور نماز پڑھتے۔۔۔ دوسریجگہ نافع سے روایت ہے کہ وہ چوتھائی رات تک چلتے ، پھر اتر کر نماز پڑھتے۔