(۵۵۴۷) فَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَلِیٌّ ہُوَ ابْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرَ بْنَ زَیْدٍ یَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ یَقُولُ : صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- ثَمَانِیًا جَمِیعًا وَسَبْعًا جَمِیعًا۔
قَالَ عَلِیٌّ وَحَدَّثَنَا بِہِ سُفْیَانُ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَہُ فَقُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ لِمَ فَعَلَ ذَلِکَ قَالَ أَرَادَ أَنْ لاَ یُحْرِجَ أُمَّتَہُ وَزَادَ سُفْیَانُ مَرَّۃً فِی حَدِیثِ أَبِی الزُّبَیْرِ غَیْرَ خَوْفٍ وَلاَ سَفَرٍ۔
وَأَمَّا حَدِیثُ ہِشَامِ بْنِ سَعْدٍ۔ [صحیح معنی سالفًا]
(٥٥٤٧) (الف) جابر بن زید فرماتے ہیں : میں نے ابن عباس سے سنا وہ کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ آٹھ یا سات نمازیں اکٹھی پڑھی ہیں۔
(ب) سعید بن جبیر ابن عباس سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس سے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسا کیوں کیا ؟ فرمایا : تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت پر حرج نہ ہو۔ سفیان نے کچھ الفاظ زائدبیان کیے ہیں کہ بغیر خوف اور سفر کے۔