(۵۵۴۸) فَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْحُرْفِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَیْرِ الْکُوفِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَیْرِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَمَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بَیْنَ الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ فِی الْمَدِینَۃِ مِنْ غَیْرِ خَوْفٍ وَلاَ سَفَرٍ قُلْتُ : لِمَ تَرَی یَا أَبَا عَبَّاسٍ ؟ قَالَ : أَرَادَ أَنْ لاَ یُحْرِجَ أُمَّتَہُ۔
وَأَمَّا حَدِیثُ قُرَّۃَ بْنِ خَالِدٍ بِخِلاَفِ ہَؤُلاَئِ۔ [صحیح۔ معنی تخریجہ]
(٥٥٤٨) سعید بن جبیر عبداللہ بن عباس سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ میں ظہر، عصر ، مغرب اور عشابغیر خوف اور سفر کے ان کو جمع کیا۔ میں نے کہا : اے عباس ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کیا ارادہ تھا ؟ فرمایا : تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت پر تنگی نہ ہو۔