(۵۶۰۵) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ إِمْلاَئً وَقِرَائَ ۃً حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی أُمَامَۃَ بْنِ سَہْلٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کُنْتُ قَائِدَ أَبِی حِینَ کُفَّ بَصَرُہُ فَإِذَا خَرَجْتُ بِہِ إِلَی الْجُمُعَۃِ فَسَمِعَ الأَذَانَ بِہَا اسْتَغْفَرَ لأَبِی أُمَامَۃَ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَۃَ۔فَمَکَثْتُ حِینًا أَسْمَعُ ذَلِکَ مِنْہُ فَقُلْتُ: إِنَّ عَجْزًا أَنْ لاَ أَسْأَلَہُ عَنْ ہَذَا فَخَرَجْتُ بِہِ کَمَا کُنْتُ أَخْرُجُ فَلَمَّا سَمِعَ الأَذَانَ بِالْجُمُعَۃِ اسْتَغْفَرَ لَہُ فَقُلْتُ: یَا أَبَتَاہُ أَرَأَیْتَ اسْتِغْفَارَکَ لأَسَعْدَ بْنِ زُرَارَۃَ کُلَّمَا سَمِعْتَ الأَذَانَ بِالْجُمُعَۃِ قَالَ: أَیْ بُنَیَّ کَانَ أَسْعَدُ أَوَّلَ مَنْ جَمَّعَ بِنَا بِالْمَدِینَۃِ قَبْلَ مَقْدَمِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی ہَزْمٍ مِنْ حَرَّۃِ بَنِی بَیَاضَۃَ فِی نَقِیعٍ یُقَالُ لَہُ الْخَضَمَاتُ قُلْتُ: وَکَمْ أَنْتُمْ یَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: أَرْبَعُونَ رَجُلاً ۔ [حسن۔ ابن ماجہ ۱۰۸۲]
(٥٦٠٥) عبد الرحمن بن کعب بن مالک فرماتے ہیں : میں اپنے والد کو مسجد لے کر آتا تھا، جب ان کی نظر ختم ہوگئی۔ ایک مرتبہ میں انھیں جمعہ کے لیے لے کر جا رہا تھا تو اذان سن کر میرے والد نے ابو امامہ اسعد بن زرارہ کے لیے بخشش کی دعا کی۔ میں کچھ وقت رکا اور ان سے یہ سنتا رہا، لیکن سوال نہیں کیا، پھر میں انھیں جمعہ کے لیے لے کر نکلا تو جب انھوں نے جمعہ کی اذان سنی تو اسعد بن زرارہ کے لیے بخشش کی دعا کی۔ میں نے پوچھ لیا : اے ابا جان ! آپ جمعہ کی اذان سن کر اسعد بن زرارہ کے لیے استغفار کرتے ہیں ؟ فرمانے لگے : اے بیٹا ! اسعد پہلے آدمی ہیں جنہوں نے مدینہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آنے سے پہلے نقیع کے علاقہ میں بنو بیاضہ کی بستی ھزم میں جمعہ پڑھایا۔ اس کو غضمات کہا جاتا تھا۔ میں نے پوچھا : آپ اس دن کتنے لوگ تھے ؟ فرمایا : چالیس افراد۔