(۵۶۰۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی أُمَامَۃَ بْنِ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ وَکَانَ قَائِدَ أَبِیہِ بَعْدَمَا ذَہَبَ بَصَرُہُ عَنْ أَبِیہِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ: أَنَّہُ کَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَائَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ تَرَحَّمَ لأَسَعْدَ بْنِ زُرَارَۃَ فَقُلْتُ لَہُ: إِذَا سَمِعْتَ النِّدَائَ تَرَحَّمْتَ لأَسْعَدَ بْنِ زُرَارَۃَ قَالَ: لأَنَّہُ أَوَّلُ مَنْ جَمَّعَ بِنَا فِی ہَزْمِ النَّبِیتِ مِنْ حَرَّۃِ بَنِی بَیَاضَۃَ فِی نَقِیعٍ یُقَالُ لَہُ الْخَضِمَاتُ۔قُلْتُ: کَمْ کُنْتُمْ یَوْمَئِذٍ قَالَ: أَرْبَعُونَ۔
وَرَوَاہُ جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی أُمَامَۃَ کَمَا قَالَ یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ۔
وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ إِذَا ذَکَرَ سَمَاعَہُ فِی الرِّوَایَۃِ وَکَانَ الرَّاوِی ثِقَۃً اسْتَقَامَ الإِسْنَادُ وَہَذَا حَدِیثٌ حَسَنُ الإِسْنَادِ صَحِیحٌ۔ وَقَدْ رُوِیَ فِیہِ حَدِیثٌ آخَرُ لاَ یُحْتَجُّ بِمِثْلِہِ۔ [حسن۔ انظر ما قبلہ]
(٥٦٠٦) عبد الرحمن بن کعب بن مالک فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کو مسجد لے کر آتا تھا جب ان کی نظر خراب ہوگئی وہ جب بھی جمعہ کی اذان سنتے تو اسعد بن زرارہ کے لیے رحمت کی دعا کرتے ۔ میں نے کہا : ابا جان ! آپ جب بھی جمعہ کی اذان سنتے ہیں تو اسعد بن زرارہ کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں ؟ فرمایا : وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے نقیع علاقہ میں بنو بیاضہ کی بستی ھزم النبیت میں جمعہ پڑھایا۔ جس کو خضمات کہا جاتا ہے۔ میں نے کہا : آپ لوگ اس دن کتنے تھے ؟ فرمایا : چالیس۔