(۵۶۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الأَسْفَاطِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنِی إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطِیَّۃِ عَنْ جَدَّتَہِ
أُمِّ عَطِیَّۃَ قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْمَدِینَۃَ جَمَعَ نِسَائَ الأَنْصَارِ فِی بَیْتٍ فَأَرْسَلَ إِلَیْہِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَامَ عَلَی الْبَابِ فَسَلَّمَ عَلَیْنَا فَرَدَدْنَا عَلَیْہِ السَّلاَمَ فَقَالَ: أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِلَیْکُنَّ۔قَالَتْ فَقُلْنَا: مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّہِ وَبِرَسُولِ رَسُولِ اللَّہِ قَالَ: تُبَایِعْنَ عَلَی أَنْ لاَ تُشْرِکْنَ بِاللَّہِ شَیْئًا ، وَلاَ تَسْرِقْنَ ، وَلاَ تَزْنِینَ الآیَۃَ۔قَالَتْ قُلْنَا: نَعَمْ فَمَدَّ یَدَیْہِ مِنْ خَارِجِ الْبَیْتِ وَمَدَدْنَا أَیْدِینَا مِنْ دَاخِلِ الْبَیْتِ ، ثُمَّ قَالَ: اللَّہُمَّ اشْہَدْ۔وَأُمِرْنَا بِالْعِیدَیْنِ أَنْ تَخْرُجَ فِیہِمَا الْحُیَّضُ وَالْعُتَّقُ وَلاَ جُمُعَۃَ عَلَیْنَا ، وَنَہَانَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ قَالَ إِسْمَاعِیلُ فَسَأَلْتُ جَدَّتِی عَنْ قَوْلِہِ {وَلاَ یَعْصِینَکَ فِی مَعْرُوفٍ} [الممتحنۃ: ۱۲] قَالَتْ: نَہَانَا عَنِ النِّیَاحَۃِ۔ [ضعیف۔ احمد ۵/۸۵]
(٥٦٣٧) عبد الرحمن بن عطیہ اپنی دادی ام عطیہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ آئے تو انصار کی عورتوں کو ایک گھر میں جمع کیا اور ان کی طرف عمر بن خطاب کو بھیجا تو وہ دروازے پر کھڑے ہوگئے اور سلام کہا، ہم نے سلام کا جواب دیا۔ پھر فرمایا : میں تمہاری طرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قاصد ہوں۔ ہم نے کہا : خوش آمدید ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے قاصد کو۔ پھر فرمایا : تم بیعت کرو کہ تم اللہ کے ساتھ شرک نہ کرو گی، چوری اور زنانہ کرو گی۔ ہم نے کہا : ہاں۔ انھوں نے اپنا ہاتھ پھیلایا گھر کے باہر سے اور ہم نے اپنے ہاتھ پھیلائے گھر کے اندر سے ۔ پھر فرمایا : اے اللہ ! تو گواہ ہوجا اور ہمیں حکم دیا گیا کہ عیدین میں بالغ عورتیں آئیں، لیکن ہمارے اوپر جمعہ نہیں اور ہمیں جنازوں میں شمولیت سے منع کردیا۔ اسماعیل کہتے ہیں : میں نے اپنی دادی سے پوچھا : { وَلاَ یَعْصِینَکَ فِی مَعْرُوفٍ } [الممتحنۃ : ١٢] بھلائی کے کاموں میں وہ نافرمانی نہ کریں، سے کیا مراد ہے ؟ انھوں نے فرمایا : آپ نے ہمیں نوحہ کرنے سے منع کردیا ۔