(۵۶۶۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: کَانَ النَّاسُ عُمَّالَ أَنْفُسِہِمْ وَکَانُوا یَرُوحُونَ إِلَی الْجُمُعَۃِ بِہَیْئَتِہِمْ فَکَانَ یُقَالُ لَہُمْ لَوِ اغْتَسَلْتُمْ۔
أَخْرِجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ یَحْیَی الأَنْصَارِیِّ۔
[صحیح۔ معنی تخریجہ فی باب (الدلالۃ علی ان الفسل بو الجمعۃ)]
(٥٦٦٥) عمرہ عائشہ (رض) سے نقل فرماتی ہیں کہ لوگ بذات خود کام کرتے تھے ، پھر جمعہ کے لیے اسی حالت میں آجاتے۔ ان سے کہا جاتا، اگر تم غسل کرلیتے تو بہتر تھا۔