(۵۸۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْخُزَاعِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَکَرِیَّا الْمَکِّیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ عَنْ أَبِی رِفَاعَۃَ الْعَدَوِیِّ قَالَ: انْتَہَیْتُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَہُوَ یَخْطُبُ فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ رَجُلٌ غَرِیبٌ جَائَ یَسْأَلُ عَنْ دِینِہِ لاَ یَدْرِی مَا دِینُہُ فَأَقْبَلَ إِلَیَّ وَتَرَکَ خُطْبَتَہُ فَأُتِیَ بِکُرْسِیٍّ خِلْتُ قَوَائِمَہُ حَدِیدًا فَجَعَلَ یُعَلِّمُنِی مِمَّا عَلَّمَہُ اللَّہُ ثُمَّ أَتَی خُطْبَتَہُ وَأَتَمَّ آخِرَہَا۔ [صحیح۔ مسلم ۸۷۶]
(٥٨١٧) ابو رفاعۃ عدوی (رض) فرماتے ہیں کہ میں نبی کے پاس گیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ایک اجنبی آیا ہے ، وہ دین کے بارے میں سوال کررہا ہے، وہ نہیں جانتا کہ دین کیا ہوتا ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری طرف متوجہ ہوئے اور خطبہ چھوڑ دیا۔ ایک کرسی لائی گئی۔ میرا خیال ہے کہ اس کے پائے لوہے کے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے سکھانے لگے جو اللہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سکھایا تھا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ مکمل کیا۔