(۵۸۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَأَبُو کَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ عَنْ حَبِیبٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ: ((یَحْضُرُ الْجُمُعَۃَ ثَلاَثَۃُ نَفَرٍ ، فَرَجُلٌ حَضَرَہَا یَلْغُو فَہُوَ حَظُّہُ مِنْہَا ، وَرَجُلٌ حَضَرَہَا بِدُعَائٍ فَہُوَ رَجُلٌ دَعَا اللَّہَ إِنْ شَائَ أَعْطَاہُ وَإِنْ شَائَ مَنَعَہُ ، وَرَجُلٌ حَضَرَہَا بِإِنْصَاتٍ وَسُکُوتٍ وَلَمْ یَتَخَطَّ رَقَبَۃَ مُسْلِمٍ وَلَمْ یُؤْذِ أَحَدًا فَہِیَ کَفَّارَۃٌ إِلَی الْجُمُعَۃَ الَّتِی تَلِیہَا وَزِیَادَۃُ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ وَذَلِکَ بِأَنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ یَقُولُ {مَنْ جَائَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہُ عَشْرُ أَمْثَالِہَا} [الأنعام:۱۶])) ۔ [حسن۔ ابو داؤد ۱۱۱۳]
(٥٨٣١) عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین قسم کے لوگ جمعہ میں حاضر ہوتے ہیں : ایک وہ جو حاضر ہوتا ہے اور فضول کام کرتا ہے یہ اس کا حصہ ہے۔ دوسرا جو دعا کی غرض سے حاضر ہوتا ہے وہ اللہ سے دعا کرتا ہے اگر اللہ چاہے تو اس کو عطا کر دے اگر چاہے تو روک لے۔ تیسرا وہ جو حاضر ہوا اور خاموش رہا نہ تو اس نے کسی مسلمان کی گردن کو روندا اور نہ ہی کسی کو تکلیف دی۔ اس کا اجر یعنی ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک ، بلکہ تین دن زائد بھی اس کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے { مَنْ جَائَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہُ عَشْرُ أَمْثَالِہَا } [الأنعام : ١٦] جو ایک نیکی کرتا ہے اس کے لیے دس گنا ہے۔