(۵۸۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی نَصْرٍ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُوَجِّہِ حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِیُّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَیْنُ بْنُ حُرَیْثٍ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی عَنْ یُونُسَ بْنِ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُبَیْلٍ عَنْ جَرِیرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ: لَمَّا دَنَوْتُ مِنْ مَدِینَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَنَخْتُ رَاحِلَتِی وَحَلَلْتُ عَیْبَتِی فَلَبِسْتُ حُلَّتِی فَدَخَلْتُ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَخْطُبُ فَسَلَّمَ عَلَیَّ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَرَمَانِی النَّاسُ بِالْحَدَقِ فَقُلْتُ لِجَلِیسِی: یَا عَبْدَ اللَّہِ ہَلْ ذَکَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ أَمْرِی شَیْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ ذَکَرَکَ بِأَحْسَنِ الذِّکْرِ۔بَیْنَمَا ہُوَ یَخْطُبُ إِذْ عُرِضَ لَہُ فِی خُطْبَتِہِ فَقَالَ: ((إِنَّہُ سَیَدْخُلُ عَلَیْکُمْ مِنْ ہَذَا الْبَابِ أَوْ مِنْ ہَذَا الْفَجِّ مِنْ خَیْرِ ذِی یَمَنٍ ، وَإِنَّ عَلَی وَجْہِہِ لَمَسْحَۃُ مَلَکٍ ۔فَحَمِدْتُ اللَّہَ عَلَی مَا أَبْلاَنِی))۔ [حسن۔ احمد ۴/۳۵۹]
(٥٨٤٣) جریر بن عبداللہ فرماتے ہیں : جب میں مدینہ کے قریب آیا اور اپنی سواری کو بٹھایا، اپنا تھیلا کھولا اور حلہ پہن لیا۔ پھر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے سلام کہا تو لوگ مجھے گھور رہے تھے۔ میں نے اپنے ساتھ والے سے پوچھا : اے اللہ کے بندے ! کیا اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے بارے میں کچھ ذکر کیا ہے ؟ کہنے لگے : اچھا تذکرہ کیا۔ جب دوران خطبہ کوئی بات پیش کی گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا : عنقریب اس دروازے یا اسی راستہ سے یمن کا بہترین آدمی آئے گا اور اس کے چہرے پر فرشتے کا چوکا ہوگا۔ میں نے اللہ کی حمد بیان کی، جو اس نے میری آزمائش کی۔