(۵۸۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ یَعْنِی ابْنَ مِنْہَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَہُوَ ابْنُ سَلَمَۃَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا حِبَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّہُ قَالَ: أُقِیمَتْ صَلاَۃُ الْعِشَائِ فَقَالَ رَجُلٌ لِی حَاجَۃٌ فَقَامَ النَّبِیُّ -ﷺ- یُنَاجِیہِ حَتَّی نَامَ الْقَوْمُ أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ ثُمَّ صَلَّوْا۔لَفْظُ حَدِیثِ حِبَّانَ۔وَفِی رِوَایَۃِ حَجَّاجٍ قَالَ: أُقِیمَتِ الصَّلاَۃُ صَلاَۃُ الْعِشَائِ الآخِرَۃِ فَقَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ لِی حَاجَۃً فَقَامَ مَعَہُ یُنَاجِیہِ حَتَّی نَعِسَ بَعْضُ الْقَوْمِ وَجَائَ فَصَلَّی وَلَمْ یَذْکُرْ أَنَّہُم تَوَضَّئُوا۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ سَعِیدٍ الدَّارِمِیِّ۔ [صحیح۔ بخاری ۶۱۷]
(٥٨٥٢) (الف) انس (رض) فرماتے ہیں کہ عشا کی نماز کی اقامت ہوجانے کے بعد ایک آدمی نے کہا : مجھے کام ہے یا کہا : ضرورت ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بات چیت کرتے رہے یہاں تک کہ قوم سو گئی یا بعض افراد سوگئے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو نماز پڑھائی۔
(ب) مجاہد کی روایت میں ہے کہ نماز کی اقامت ہوچکی تو ایک آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے کوئی کام ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بات چیت کرتے رہے اور بعض افراد سو گئے ، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی اور انھوں نے ذکر نہیں کیا کہ انھوں نے وضو کیا۔