(۵۸۶۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ وَمَعْقُولٌ أَنَّ السَّعْیَ فِی ہَذَا الْمَوْضِعِ الْعَمَلُ لاَ السَّعْیُ عَلَی الأَقْدَامِ قَالَ اللَّہُ تَعَالَی {إِنَّ سَعْیَکُمْ لَشَتَّی} [اللیل: ۴] وَقَالَ {وَمَن أَرَادَ الآخِرَۃَ وَسَعَی لَہَا سَعْیَہَا وَہُوَ مُؤْمِنٌ} [الإسرار: ۱۹] وَقَالَ {وَکَانَ سَعْیُکُمْ مَشْکُورًا} [الإنسان: ۲۲] وَقَالَ {وَأَنْ لَیْسَ لِلإِنْسَانِ إِلاَّ مَا سَعَی} [النجم: ۳۹] وَقَالَ {وَإِذَا تَوَلَّی سَعَی فِی الأَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیہَا} [البقرۃ: ۲۰۵]۔
قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ رُوِیَ عَنْ أَبِی ذَرٍّ مَا یُؤَکِّدُ ہَذَا۔ [صحیح۔ انظر ما قبلہ]
(٥٨٦٨) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہاں سعی سے مراد عمل ہے، پاؤں سے چلنا مراد نہیں؛کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : {إِنَّ سَعْیَکُمْ لَشَتَّی } [اللیل : ٤] تمہارے محنت و کوشش مختلف ہے۔
اور اللہ فرماتے ہیں : { وَمَن أَرَادَ الآخِرَۃَ وَسَعَی لَہَا سَعْیَہَا وَہُوَ مُؤْمِنٌ} [الإسرار : ١٩]
اور جو آخرت کا ارادہ کرتا ہے اور اس کے لیے کوشش بھی کرتا ہے وہ مومن ہے۔
اللہ فرماتے ہیں : { وَکَانَ سَعْیُکُمْ مَشْکُورًا } [الإنسان : ٢٢]
اور تمہاری کوشش کی قدر کی جائے گی۔
اللہ فرماتے ہیں : { وَأَنْ لَیْسَ لِلإِنْسَانِ إِلاَّ مَا سَعَی } [النجم : ٣٩]
انسان کے لیے وہی ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔
اللہ فرماتے ہیں : { وَإِذَا تَوَلَّی سَعَی فِی الأَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیہَا } [البقرۃ : ٢٠٥] ۔
اور جب وہ پھرتا ہے زمین میں فساد کی کوشش کرتا ہے۔